تحدیث نعمت — Page 176
144 عہدے پر فائز رہے تھے۔ان کی رہائش محلہ دور دروازہ میں تھی لیکن وہ اکثر مستری صاحبان کی ملاقات کے لئے ان کی دوکان پر تشریف لایا کرتے تھے۔اپنی ضروریات کے پیش نظر مستری صاحبان نے کچھ کہ تم شیخ میران بخش صاحب سے قرض لیکر دوکانیں ان کے پاس رہن کر دیں۔قبضہ منتری صاحبان کا ہی رہتا لیکن دوکانوں کا کہا یہ با قاعدہ شیخ صاحب کو ادا ہوتا رہ ایشیخ صاب کی وفات پر دو کانوں کا ستی مرتہنی اُنکے صاحبزادے شیخ عبدالرحیم کے حصے میں آیا۔یہ صاحب کو امیرانہ حق طبیعت کے تھے انہیں نقد روپے کی ضرورت پیش آئی اور انہوں نے سنتری صاحبان سے مطالبہ کیا کہ زمین کی رقم ادا کر کے جائداد فک کرالیں۔بستری صاحبان کے پاس رقم موجود نہ تھی پیشیخ عبدالرحیم صاحب نے بھی مرتہنی سردانہ تارا سنگھ صاحب کے پاس فروخت کر دیا۔مستری صاحبان کو اس سے صدمہ ہوا کیونکہ جب تک مرتہن کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔پریشانی کی کوئی وجہ نہ تھی۔اب حق مرستہی ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں چلا گیا جس سے حسن سلوک کی کوئی توقع نہیں ہو سکتی تھی چنانچہ وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔نئے مرتہن نے انہیں دق کرنا شروع کیا۔مقدمہ بازی شروع ہوگئی سردارہ تارا سنگھ صاحب نے دعوئی دخل دائمہ کر دیا اور ان کے حق میں ڈگری ہو گئی۔اسرائے ڈگری میں انہوں نے دوکانوں کا دخل ہے کیا۔متری صاحبان نے دوکانیں خالی کر دیں اور بازار کے دوسری طرف کی دوکانوں کے عقب میں ایک کھلی جگہ کرایہ پرہے کہ اور اس پر ایک عارضی شیڈ کھڑا کر کے دہان اپنا کاروبار شروع کر دیا۔سردار تارا سنگھ صاحب کی غرض یہ تھی کہ مستری صاحبان کو دوکانوں کی پچھت کے استعمال سے جو سہولت اور آسائش حاصل تھی اس سے محروم کر دیں اور وہ ایک خطیر رقم سردار صاحب کو قیمت کے طور پر ادا کر کے در کا میں واپس لیں لیکن یہ غرض پوری نہ ہوئی۔دوکانوں کا قبضہ تو انہوں نے لے لیا لیکن چھت پر مستری صاحبان کا قبضہ بدستور رہا۔درد کائیں کرایہ پر بھی نہ دی سجا سکیں۔محلے میں سے کوئی انہیں لینے پر تیارہ نہ ہوا اور محلے سے باہر بھی یہ احساس تھا کہ سردار صاحب نے خواہ مخواہ ایک شریف خاندان کے لئے مشکل پیدا کی ہے۔آخر سر دا لہ صاحب نے اپنے وکیل صاحب کی طرف رجوع کیا اور انہوں نے اجرائے ڈگری کی صورت میں ایک درخواست پیش کردی کہ احمد لئے ڈگر ی ابھی تک نامکمل ہے۔دوکانوں کا قبضہ تو مجھے مل گیا ہے لیکن چھت کا قبضہ نہیں ملا۔چھت پر سے پردے کی دیوار اور غسل خانے وغیرہ کی عامر منفی عمارت گرا کر مجھے چھت کا قبضہ دلایا جائے والد صاحب مستری صاحبان کی طرف سے وکیل تھے۔اس مرحلے پر میں نے والد صاحب کے ساتھ سیالکوٹ پریکٹس شروع کی اور والد صاحب نے مستری صاحبان کی طرف سے اس درخواست کی جواب وہ ہی میرے