تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 150 of 736

تحدیث نعمت — Page 150

10° کے خط سے معلوم ہوا کہ ان کے والد صاحب ان کے کالج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اسنے اپنی رجمنٹ میں بطور جمعدار بھرتی کرانے کیلئے اپنے پاس بلایا ہے۔لہذا وہ اب واپس کالج نہیں آئیں گے۔میں نے انہیں فوراً جواب میں لکھا آپ کو اپنی تعلیم ضروصہ جاری رکھنی چاہیئے اور انہیں مشورہ کیلئے سیالکوٹ آنے کو کہا۔ان کے سیالکوٹ آنے پر ہم نے مشورہ کیا اور ایک ایسی تجویز پر اتفاق کرلیا جس پر عمل کرنے سے وہ کالج میںاپنی تعلیم جاری رکھ سکے۔" ونکہ مجھ پر نہتے میں میں دن کے لے سیالکوٹ جانا ہوا تھا اور انڈین کینز کا کام باقی چار دنوں میں سر انجام دینا ہوتا تھا اسلئے ایک تو مجھے سویرے کام شروع کر کے دینک کام کرنے کی عادت ہوگئی اور دوسرے اتوار بھی میرے لئے کام کا دن بن گیا۔میں صبح ناشتے سے فارغ ہو کر آٹھ بجے یا اس سے بھی قبل کام شروع کر دیتا تھا۔ایک بجے دو پر کاکھانا کھانا اور ظہر کی نمازہ سے فارغ ہو کر پھر کامیں مصروف ہو جاتا۔عصر کی نمانہ کے بعد عمو ، چائے اور سیر اور شام کے کھانے اور مغرب کی نماز کیلئے وقت فارغ رکھتا۔اس کے بعد پھر کام میں لگ جاتا اور نصف شب یا اس کے بعد تک کام کرتا۔میری طبیعت پر یہ پروگرام بو قبل نہیں تھا۔مجھے کام میں لچسپی تھی اور میں شوق سے کام کی طرف متوجہ رہتا تھا۔پٹنہ ہائی کورٹ میں سونگھیر (بہار شہر میں اور بھاگل پور میں اور ان کے مضافات میں کچھ ) پہلے کیس کی پیروی اصحاب جماعت احمدیہ میں داخل ہو چکے تھے۔مونگیر یں حکیم خلیل احمد | صاحب جماعت کے ایک معززہ اور نہایت مخلص رکن تھے۔ایک مسجد کی تولیت اور امامت ان کے خاندان میں چلی آتی تھی۔ان کے جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کے بعد جماعت کے دیگیا احباب بھی انکی امامت میں اس مسجد میں نماز ادا کرنے لگے۔محلہ دار اس پر معترض ہوئے انہوں نے حکیم صاحب کی اہمت اور تولیت سے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ جاعت احمدیہ میں شامل ہونے سے حکیم صاحب اسلام سے مرند ہو گئے ہیں اور مسجد کی تولیت اور امامت کے اہل نہیں رہے۔اور جماعت احمدیہ کے افراد بھی مسجد میں داخل ہونے اور وہاں فرد اگرد آیا با جماعت نمانہ ادا کرنے کا حق نہیں رکھتے۔معاملہ ودیوانی عدالت میں گیا۔ابتدائی عدالت میں محمد ابراہیم صاحب سب ج نے قرانہ دیا کہ احمدی جماعت کے افراد کا فر نہیں مسلمان ہیں گو ان کے عقائد بدعتی ہیں۔چونکہ محلہ داروں کی کثرت ان عقائد کو تسلیم نہیں کہ تی اس لئے جماعت احمدیہ کے افراد مسجد میں فرداً فردا تو مانہ ادا کر سکتے ہیں لیکن اپنے میں سے کسی فرد کی امامت میں نماز ادا نہیں کر سکتے۔اس فیصلے کے خلاف دونوں فریق نے ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں اپیل دائمی کی ڈسٹرکٹ جج نے سب برج صاحب کا فیصلہ بحال رکھا۔فریقین نے پیشہ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی فریق بنا