تحدیث نعمت — Page 151
کا مطالبہ تھا کہ جماعت احمدیہ کو کافر قرار دیا جائے اور انہیں مسجد میں داخل ہونے سے روکدیا جائے۔حکیم خلیل احمد صاحب کا مطالبہ تھا کہ انہیں مسجد میں باجماعت نمازہ ادا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔حکیم صاحب اور جماعت احمدیہ کو ہائی کورٹ میں اپیل کی پردی کے لئے وکیل مقرر کرنے میں دقت پیش آئی۔کوئی مسلمان وکیل جماعت کی طرف سے اپیل کی پیروی کرنے پہ رضامند نہ تھا۔آخر خورشید حسین صاحب الجو اہل تشیع میں سے تھے) رضامند ہو گئے اور ایک ہند و مختار صاحب کو مختار مقرر کر لیا گیا۔بحث کی تیاری خورشید حسنین صاحب کی ہدایت کے ما تخت مکه می سید وزارت حسین صاحب (سکنہ اور ینی ) نے بہت محنت اورہ تو سجہ سے کی پیشہ وع دسمبر میں دونوں اپیلیں سماعت کیلئے چیف جسٹس صاحب سرایڈورڈ نے میرا اور میٹر جٹس رو کے اجلاس کی ہفتہ وار فہرست میں درج ہو گئیں۔تحکیم خلیل احمد صاحب اور سید وزار حسین صاحب نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت اقدس میں عریضہ انال کیا کہ فریق مخالف نے سٹر مظہر الحق صاحب اور مولوی فخر الدین صاحب گورنمنٹ پلیڈر کی سرکردگی میں سب متان و کلا کو اپنی طرف سے وکیل مقرر کر لیا ہے۔صرف سید حسن امام صاحب نے اس نا کہ انکار کیا ہے کہ یہ مذہبی معاملہ ہے اور ہم اس میں کسی فریق کی حمایت یا مخالفت نہیں کرنا چاہتے۔ویسے بھی سید حسن امام صاحب کا کام زیادہ تنہ فوجداری تھا اور وہ بہت کم دیوانی کام اپنے ذمے لیتے تھے۔ان حالات میں دونوں بزرگوں نے حضور سے مشورہ طلب کیا کہ کیا مناسب نہ ہو گا اگر خورشید حسین صاحب کے ساتھ جماعت کی طرف سے بھی کم سے کم ایک اور کیل مقرر کیا جائے۔اس عریضہ یہ حضوریہ نے جماعت کی طرف سے مجھے پیٹنہ ہائی کورٹ میں پیروی کرتے کیلئے ارشاد فرمایا۔اس ارشاد کے ملنے پر ایک طرف تو میرا دل حضور کی شفقت اور عنایت کے اندازنے سے لطف اندوز ہوا کہ حضور نے اس حقیر خادم کو ایسے اہم معاملے میں جماعت کی نمائندگی کے قابل گردانا اور دوسری طرف اپنی کم مائیگی، بے بضاعتی اور ناتجربہ کاری کے احساس سے پریشان ہوا کہ اتنی بھاری ذمہ داری کما حقہ نباہنے کی کیا صورت ہوگی۔مجھے پریکٹس شروع کئے ابھی دوسوال کا عرصہ بھی نہیں ہوا تھا۔کو تھوڑا بہت کام میں نے اس وقت تک گیا تھا وہ کلیہ ضلع کی ابتدائی عدالتوں میں تھا۔چیف کورٹ میں میں کبھی پیش نہیں ہوا تھا۔مجھے عدالت ہائے عالیہ کے ضابطے اور رسم و رواج کا کوئی علم تھا نہ تجریہ۔جس قضیے کے سلسلے میں مجھے پیروی کرنا تھی اس کے واقعات کا مجھے سرسری علم بھی نہیں تھا۔صرف اتنی اطلاع تھی کہ مونگیر کی ایک مسجد کی تولیت اور امت