تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 142 of 736

تحدیث نعمت — Page 142

۱۳ کوئی فیصلہ انڈین کیسیز میں پہلے چھپ جائے تو وہ انڈین کینر سے نقل کر لیں۔ان رسائل میں سے ایک اور ھر کیز بھی تھا۔اس کے ایڈیٹر پنڈت بشیشہ ناتھ سری واستو اصا تھے جو بعد میں اوردو تور شین کمشنری کے جوبعد چیف کو ریٹ بن بجانے پر اور دو چیف کورٹ کے حج اور پھر چیف جسٹس ہوئے۔سری داستوا صاحب نہایت قابل قانون دان تھے۔چودھری صاحب کی نگاہ میں اودھ کی یہ نہایت ممتا نہ رسالہ تھا۔انکی ہدایت تھی کہ تو فیصلہ جات اودھ کیسینز میں پہلے چھپ جائیں ان کے سیڈ نوٹ بدون نظر ثانی اور ان بل ترمیم انڈین کبیر میں نقل کرلئے جائیں۔ہر عدالت کے رپورٹر صاحب بھی جو فیصلہ چھپنے کیلئے انتخاب کرتے اس کی مصدقہ نقل حاصل کر کے اس کا ہیڈ نوٹ تیار کرتے اور نقل کے ساتھ اپنا ہیڈ نوٹ شامل کر کے دفتر میں بھیج دیتے۔مسٹر پارہ تھا سالہ تھی اور میں ان ہیڈ نوٹس پر غور کر کے ان کی حسب ضرورت ترمیم کر دیتے یا با تہ سیم چھینے کے لئے دیر تے یا خود نیا سٹڈ نوٹ نیا نہ کرتے۔والد صاحب کا خدمت دین اپنے پروگرام میں اس تبدیلی کے نتیجے میں مجھے بعض پر یشانیوں کیلئے پریکٹس ترک گھر نا کا سامنا بھی ہوا۔سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ تھی کریں والد صاحب کے ساتھ آخری مشورہ نہ کر سکا تھا۔میں سمجھتا تھا کہ انہیں لا نہ مانیہ حساس ہو گا کہ مں نے ایک ایسے اہم معاملے میں بغیر ان کی آخری رضا مندی کے فیصلہ کر لیا۔اور نہ صرف اپنے لئے آند ادانہ طور پر ایک طریق کار کا انتخاب کر لیا بلکہ ان کے ساتھ وکالت کا کام کرنا بھی بند کر دیا۔مجھ سے جیسے بھی بن آیا میں نے تو صورت پیش آگئی تھی ان کی خدمت میں گذارش کردی۔والد صاحب کے پہلے والا نامے سے مجھے کچھ اطمینان ہوا اس میں رنجید گی کا کوئی اظہار نہیں تھا بلکہ خط شفقت سے لکھا ہوا تھا۔البتہ ایسا نہ شرح ہوتا تھا کہ اگر میں سیالکوٹ سے لاہور منتقل ہونے میں چندماہ کی تاخیر کہ عینا تو انہیں سہولت رہتی۔ان کا اپنا ارادہ پر کیش ترک کرکے اپنی زندگی کا بقیہ حصہ عبادت ، ذکر الہی اور خالص خدمت دین میں گزارنے کا تھا۔شاہ میں سلسلہ میں بیعت ہوتے ہی انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ السلام کی خدمت آمریک میں گذارش کی تھی کہ اگر حضور ا جازت بخشیں تو پر سیٹیں ترک کر کے حضور کی خدمت میں حاضر ہو جائیں حضور نے فرمایا اقامت فی ما اقام الله (قائم کر نا اس بات پر جس پر اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہو ) کے مرفقیہ پریکٹس جاری رکھیں اور اس پیشے میں تقوی کا نمونہ قائم کرنے کی کوشش کریں اور استغفار بہت کرتے ہیں۔اور اپنی آمد سے اللہ تعالیٰ کے رستے میں فراخی سے خرچ کرتے رہیں۔والد صاحب حضور کی نصیحت بیر تا حد استطاعت بفضل الله عامل رہے۔خلافت اولی کے قیام پر حضرت خلیفہ المسیح اول رضی اللہ تعالی کی خدمت میں بھی دی گزارش کی۔حضور نے فرمایا حضرت مسیح موعود نے جس بات کی اجازت نہیں دی ہم