تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 141 of 736

تحدیث نعمت — Page 141

اسم جہاں ضرورت ہوگی میں اصلاح کردوں گا۔دفتر کی عام نگرانی بھی تمہارے ذمے ہو گی۔میں آج شام ڈلہوری واپس جارہا ہوں۔میری غیر حاضری میں دفتر کے تم ذمہ دار ہو گے۔بس بات کے متعلق ضروری سمجھو مجھ سے دریافت کر لیا کرنا ورنہ خود فیصلہ کرنا۔چودھری صاحب کی گفتگو سے معلوم ہوا کہ وہ تو میرے تقرر کا فیصلہ فرما چکے ہیں اور میرے لئے اب مزید غورہ کی گنجائش نہیں۔میں نے اتنا کہنے کی جرات کی کہ بعض تفاصیل کے متعلق مجھے دریافت کرنا ہے۔فرمایا پوچھ لو۔میں نے دریافت کیا دفتر کے اوقات ، تعطیلات شخصیت وغیرہ کی کیا صورت ہوگی۔فرمایا دفتر کے مقررہ اوقات کا میں تمہیں پابند نہیں کرتا۔دیر سے آؤ جلدی پہلے جاو یہ تمہاری مرضی پر ہے۔کام وقت پر اور توجہ سے سر انجام پاتا رہے یہ تمہاری زمہ دارہی ہے۔اوقات کا فیصلہ تم پر ہے۔یہی حال تعطیلات اور رخصت کا ہے۔جب تم کہیں جانا چاہو خوشی سے جاؤیر اجازت کی ضرورت نہیں لیکن مجھے اطلاع کرد داور یہ اندازہ کر لو کہ کام میں برج یا تا خیر نہ ہو یہ صوت چودھری صاحب کیلئے تو موجب اطمینان ہوگی۔لیکن میرے لئے باعث اطمینان نہ تھی۔ان کی طرف سے سمندر اعتماد کا اظہار اور ہر بات کا میری ذمہ داری پہ چھوڑنا مجھ پر بہت بو جھیل تھا۔میں سمجھتا تھا کہ اس انتظام کے ماتحت مجھے کبھی آنہادی نہیں ہوگی۔ہر وقت ذمہ داری کی نہ بخیرمیں جکڑا نہ ہوں گا۔لیکن میرے لئے کچھ کہنے کی گنجائش نہیں رہی تھی اور حجاب بھی مانع تھا۔ساتھ ہی یہ بھی احساس تھا کہ چو دھری صاحب نے خود ہی سب فیصلہ کر دیا اور فوراً مجھے زمہ دار بھی کر دیا۔میرے مجوزہ پروگرام کو کہ میں آخر ستمبر یا شروع اکنونہ سے کام شروع کروں گا عملاً منسوخ کر دیا۔میں خاموش ہو ر نا کہ اچھا ہوندا کو منظور ہوگا۔علیہ توکلت والیہ انیب۔راس پر میرا تو کل ہے اور اسی کی طرف میں تھکتا ہوں۔) مسٹر یار تھا سارہ تھی آئینگیر | انڈین کیسینز میں ایک اور اسسٹنٹ ایڈمیر مسٹر یار تھا سا بھتی یا تھاسار اسسٹنٹ ایڈیٹر انڈین کییز آئینگر تھے۔وہ مجھ سے بہت زیادہ تجربہ رکھتے تھے اور کچھ عرصے سے انڈین کمیسیز کے دفتر میں کام کر رہے تھے۔مدراسی یہ مین تھے اور مدراس ہائی کورٹ کے ایک کیٹ تھے۔پچودھری صاحب نے ہمارے درمیان تقسیم کار اس طرح کی کہ بعض عدالتوں کے متصلہ جات کو طباعت کیلئے وہ تیار کریں اور باقی عدالتوں کے فیصلہ جات میں تیارہ کردوں، میرے کام کی نظر ثانی جودی صاحب خود فرمایا کریں اور پارہ تھا سا تھی صاحب کا کام پروف میں میری نظر سے گند نا ر ہے۔اگر میں ان کے کام میں کسی اصلاح کی ضرورت محسوس کروں تو ہم دونوں آپس میں مشورہ کر کے لے کرلیں۔اگر اختلاف ہو تو بود مصری صاحب فیصلہ فرمائی۔بعض قانونی رسائل کے ساتھ یہ انتظام سنا کہ کہ کوئی فیصلہ ان میں پہلے چھپ جائے تو ہم اسے نقل کر لیں اور ان کا میڈ نوٹ بھی نقل کر لیں۔اور اگر 1