تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 143 of 736

تحدیث نعمت — Page 143

کو 1914 کیسے دیں۔آپ پر کیس جامہ یادرکھیں۔اس دوران میں والد صاحب نے قرآن کریم کو حفظ کرنا شدی کر دیا تھا۔جب اس مبارک عزم کی تکمیل ہوگئی تو حضرت خلیفہ المسیح اول نمی خدمت میں اطلاع کی حضور ثبہت خوش ہوئے اور فرمایا ظفر اللہ خان نے باہمی محبت حاصل کرنے کی خوب تقدیر کی ہے ہمارے محبوب کو اپنے دل میں رکھ لیا ہے کہ اب تو نور الدین مجھ سے محبت کر دیگا ی امر کے دوران جب والد صا ستے پر کٹیں ترک کرنے کا خیال ظاہر کیا تو والدہ صاحبہ نے اور خاک رہنے مشورہ دیا کہ ابھی پریکٹس سجاری رکھیں۔ان کی عمر اس وقت ۵۳ سال تھی۔صحت اچھی تھی۔پریکٹیں چھی چلتی تھی۔دیوانی کام میں اور خصوصاً نزمین کے مقدمات میں آپ پچوٹی کے وکیل شمار کئے جاتے تھے۔شہر اور مضلع میں آپ بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔باد بود زمیندار خاندان کا فرد ہونے کے شہر میں آپ کا بہت رسوخ تھا برسوں شہر کی میونسپلٹی کے رکن رہ چکے تھے۔تین سال دانش پریذیڈنٹ بھی لہ ہے۔(ان دنوں میونسپلٹی کے صدر سرکاری حیثیت سے ڈپٹی کمشنر صاحب ہوا کرتے تھے، آخر خود اپنی مرضی سے میونسپلٹی کی رکنیت ترک کردی تھی۔اور اب پریکٹیس ترک کرنے کا بھی فیصلہ کر چکے تھے۔والدہ صاحبہ اور میرے مشورے کے جواب میں فرمایا اُن ان کی ترص کی تو کوئی حد نہیں لیکن قناعت بہت قابلِ قدر صفت ہے۔تمہاری اعلیٰ تعلیم کا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انتظام فرما دیا تم اب اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہو۔پر کٹیس کے علاوہ میرے اور وسائل اتنے ہیں کہ میری سادہ نہ ندگی کی ضروریات کے علاوہ تمہا رہے چھوٹے بھائیوں کی تعلیم کے لئے کفالت کرسکتے ہیں۔تمہاری بہن اپنے گھر میں خوش ہے۔اس کے علاوہ میری اور کوئی ذمہ داری نہیں۔پر پلیٹیں اس لئے جاری رکھنا کہ یہ میں جاری رہے لا حاصل ہے۔اب میری بینائی کچھ کمزور ہوتی جارہ ہی ہے نئے انگریزی ڈان وکلاء سے مقابلہ ہے۔میری انگریزی کی مہادت محدود ہے۔آج نہیں تو کل میری پر اثم شروع ہو جائے گا۔بہتر ہے کہ میں ایسے وقت میں پریکٹس چھوڑ دوں جب میری پر ٹکٹس اچھی چل رہی ہے۔ورنہ کسی وقت پر مکیں مجھے چھوڑ جائے گی۔علاوہ یہ ہیں جس بات کا مری طبیعت پر سب سے بڑھ کر اثر ہے وہ یہ ہے کہ اگر تمام عمر روزی کمانے ہی میں صرف ہو جائے تو حاصل کیا ہوا۔میں چاہتا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے میری ضروریات کا انتظام فرما دیا ہے تو اب میں اپنے وقت کا اکثر حصہ خدمت دین میں صرف کروں ؟ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے فرمایا ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح اول کے وصال پر جماعت میں جب 1