تحدیث نعمت — Page 124
مهم ۱۲ آمد پر بھی انکم ٹیکس تشخیص کر کے ٹیکس کا مطالبہ کیا۔والد صاحب نے فرمایا اس مطالبے کے خلاف ڈیپٹی کمشنر کے پاس عند داری که دو - ور نہ آئندہ سال یہ مطالبہ بڑھ جائے گا۔اور یہ عزیر سماعت نہ ہوگا کہ تمہاری کوئی علیحدہ آمد نہیں۔بچنا نچہ میں نے عزیہ داری کی در سفر است ڈپٹی کمشنر کی خدمت میں پیش کردی۔اور نہ بانی بھی کہ دیا کہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ ہی کام کرتا ہوں اور میری کوئی علیحدہ آمد نہیں۔ہماری جملہ مشتر کہ آمد پر شکی تشخیص ہو چکا ہے۔مسٹرایٹ نے قلم اٹھایا اور درخواست پر چند لفظ لکھ کر اپنے سرشتے دار کو درخواست دیدی۔میں نے دریافت کیا آپ نے کیا حکم دیا ؟ کہا تیلدار صاحب سے یہ پورٹ طلب کی ہے۔میں نے کہا تحصیلدار صاحب اس پر کیا رپورٹ کریں گے۔یہ اردو تر کا سوال ہے۔اور یہ ام میرے علم میں ہے۔میں کہتا ہوں میری کوئی الگ آمدہ نہیں آپ میری بات تسلیم کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔اگر تسلیم کرتے ہیں تو درخواست منظور کیجئے اور اگر تسلیم نہیں کرتے تو درد کیجئے۔مسٹرایٹ مسکرائے اور سے رشتہ دار سے کاغذ واپس لیکر پہلے الفاظ کاٹ دیئے اور ان کی جگہ منتظور لکھ یا۔میں شکریہ ادا کرکے چلا آیا را وقت ابھی انکم ٹیکس کا علیحدہ مرکزی محکمہ قائم نہیں ہوا تھا۔نائب تحصیلدار اور تحصیلداری انکم ٹیکس کا کام کرتے تھے۔مسٹرایٹ بعد میں کمشنر اور پر فاش کمشنر و وجوب پینشن پر گئے تو آکسفورڈ کے قریب ایک مکان جس کا نام LA VIC ERAGE تھا خرید کر اس میں سکونت اختیارہ کر لی۔شاہ میں جب میں انگلستان گیا تو مجھے اپنے ہاں دعوت دی اور بہت تواضع سے پیش آئے۔ار میں جب میں مرکزی حکومت ہند میں وزیر تجارت تھا تو حکومت پنجاب کے شملہ کے دفاتہ کے بہ آمدے میں سے گذرتے ہوئے ایک درس و انڈے پر مسٹرا بیٹ کا نام دیکھا۔میں سن چکا تھا کہ مسٹر کی آگہ ایبٹ کے ایک صاحبزادے انڈین سول سروس میں منتخب ہو کر پنجاب میں متعین ہیں۔میں چپک ہٹا کہ کمرے میں داخل ہو گیا۔اور سلام کیا۔حیران ہوئے کہ یہ شخص بلا اطلاع کیسے آگیا اور ہے کون۔میں نے ان کے والدین کی خیریت دریافت کی اور ذکر کیا کہ میں OLD VICERAGE میں ان سے ملا ہوں۔اس پر اور بھی حیران ہوئے اور کہا پھر آپ اپنا نام نشان بھی بتائیں۔میں نے نام بتایا تو فوراً کھڑے ہو گئے اور معذرت کی کہ پہلے ملاقات نہیں ہوئی اس لئے پہچان نہ سکا۔میں نے کہا معذرت مجھے کرنا چاہئے کہ میں علا اطلاع کمرے میں گھس آیا۔ان کی شادی سہ آٹور نمیارہ مشہور ماہر مالیات کی بیٹی سے ہوئی۔سول سروس سے استعفا دیکہ کچھ عرصہ تو لندن میں مالی تعلقوں میں دلچسپی پیدا کرنے کی سعی کرتے رہے اور اب سچند سالوں سے ٹرنٹی