تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 123 of 736

تحدیث نعمت — Page 123

کا تلخ اور تیز تھا اور کسی قدر ضدی بھی تھے۔جی کے فرائض کی سر انجام دہی میں یہ صفات ستیہ راہ تھیں۔ان کا جلد تبادلہ ہو گیا۔ان کی جگہ مسٹر یا نہ کر آئے تو طبیعیت کے علیم تھے اور بہت سوچ سمجھ کر چلتے تھے۔میں دوبارہ ان کے سامنے بحث کر چکا تھاکہ ان کی ملاقات کسی تقریب میں والد صاح سے ہوئی انہوں نے والد صاحب سے کہا ظفر اللہ خاں بہت محنت سے کام کرتا ہے اور بحث میں اپنا مطلب خوب واضح کر دیتا ہے۔والد صاحب نے یہ فر کر مجھ سے کیا جس سے میں نے اندازہ کیا کہ مسٹر بارکر سے میرے حق میں تعریفی کلمات سنکر انہیں خوشی ہوئی۔فالحمد للہ۔مسٹر ایبٹ آئی سی ایس ڈپٹی کمشنر | ان ونوسیا لکوٹ کے ڈپٹی کمشنر مسٹرای آمد ایبٹ تھے۔گفتگو میں ان کا لہجہ سخت معلوم ہوتا تھا۔لیکن یہ محض ان کا طرز کلام تھا۔طبیعت کے نہایت شریف تھے۔پہلی عالمی جنگ کا نہ ما نہ تھا اور حکومت کی طرف سے جنگی قرصہ اور فوجی بھرتی حاصل کرنے پر بہت زورہ دیا جارہا تھا۔بعض مقامات پر انہیں حاصل کرنے کیلئے سختی کئے جانے کی شکایت بھی سنی جاتی تھی۔لیکن مسٹرا بیٹ نے سیالکوٹ کے ضلع میں ایسی شکایت پیدا ہونیکا کوئی موقعہ نہ دیا۔پسرور میں نگی قرمنے کے سلسلے میں ایک جلسہ ہوا۔مسٹر ایبٹ صدر تھے۔ان کی تقریر کے بعد بدوملہی کے فریلدانہ مسٹر سدھ می ملہی نے اپنی طرف سے دس ہزار روپیہ کی پیش کش کی۔مسٹر بیٹ نے انہیں سختی سے یہ کہتے ہوئے مردک دیا۔اپنا قرضہ اتا ر نہیں سکتے اور حکومت کو قرضہ دیتے ہیں بیٹھ جائیے۔سید میر حامد شاہ صاحب | سید میر حامد شاہ صاحب نے ڈپٹی کمشنر کے فارسی دفتر کے سینٹنڈنٹ تھے۔مسٹر ایسٹ ان کا بہت احترام کرتے تھے۔ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ میں کسی سلسلہ میں ڈپٹی کمشنر صاحب کے اجلاس کے کمرے میں موجود تھا۔شاہ صاحب کچھ کاغذات پیش کر کے ان پر احکام نے رہے تھے۔ایک رپورٹ پڑھی کہ آپ کی عدالت کے احاطے میں تو آم کے درخت ہیں ان کا مچل اتنی رقم پر نیام ہوا۔آپ کی منظوری کیلئے پیش ہے۔مسٹر بیٹ نے اپنے مخصوص درشت لہجے میں کہا۔حامد شاہ کیا حکومت مجھے اڑھائی ہزار روپیہ ماہوار اس کام کیلئے دی ہے کہ میں ان چند رویوں کے متعلق رپورٹیں سنوں۔اور انکی منطوری دوں بے شاہ صاحب نے ان سے بھی بلند آوانہ میں بھجواب دیا۔مجھے اس سے غرض نہیں تو اعد میں لکھا ہے کہ آپ کی منظوری ضروری ہے اور قواعد آپ کی منظوری سے بنے ہوئے ہیں۔یہاں دستخط کیجئے دستخط کر دیئے اور میری مسٹر بیٹ نے دیکھ کر اور مسکرا کر کہا۔شاہ صاحب خفا ہو گئے ہیں۔ای سال کے آخری تحصیلدار امی نے بطورانکم ٹیکس افسر والد صاحب کی آمد پر انکم ٹیکس تشخیص کیا۔اور با تو اس وضاحت کے کہ میں والد صاحب کے ساتھ کام کرتا ہوں اور میری کوئی علیحدہ آمد نہیں میری مفروضہ