تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 125 of 736

تحدیث نعمت — Page 125

۱۲۵ ہاؤس کیمین کے BURSAR ہیں۔۔رائے بہادر کیشو د اس مجسٹریٹ | ان دنوں سیالکوٹ میں فوجداری صیغے میں سینیٹر مجسٹریٹ یا اختیارات زیر دفعہ ۳۰ ضابطہ فوبعدار می رائے بہا در کیشو ر اس تھے۔بہت خوش پوش با وضع اور بارعب اندر تھے۔تو جہا اور سلیقے سے کام کرتے تھے اور جلد کام ختم کر لیتے تھے۔بڑے صفائی پسند تھے۔ان کی گاڑی، گھوڑا ، ساز و سامان سب نستعلیق تھے۔ایک گھوڑے کی بانکی گاڑی تھی جسے خود چلاتے تھے۔لیکن دو گھوڑے بوڑی کے تھے۔جنہیں باری باری ہوتا جاتا تھا۔شیخ عبدالرحمن صاحب مجسٹریٹ | شیخ عبدالرحمن صاحب ریما در اصفر شیخ حمدالله صاحب مالک انگلش ویہ ٹاؤس لاہور ) سیالکوٹ یں میری در ریال بھی تھے اور درجہ اول بھی لینی ہیں ور بیداری اور دیوانی دونوں قسم کے اختیارات تفویض تھے۔نہایت خلیق اور منکسر مزاج تھے۔گفتگو میں خواجہ حافظ شیرانہی کے مقولے فاش می گوئیم دانہ گفته خود دل شادم" کے قائل تھے۔اپنا کام بہت توجہ ، محنت اور دیانتداری سے سرانجام دیتے تھے۔بہت زود نویں اور خوشنویں سے میر عبادہ اللہ صاحب سینیٹر سب حج | دیوانی صیغے میں سینٹر سب بچ سردار پرت سنگھ صاحب تھے۔ان کے پیشن پر جانے کا زمانہ قریب تھا۔ان کے بعد میر عباد اللہ صاحب سینیٹ سب جی ہو کہ آئے۔وہ بھی نہایت شریف طبیع اور منکسر مزاج تھے۔ان کے بڑے صاحبزادے میر مقبول محمود صاحب نہایت قابل اور ہونہار تھے۔تقسیم سے قبل والیان ریاست کی چیمبر کے سکریٹری ہوئے۔تقسیم کے بعد پاکستان میں ضرور بہت ترقی کرتے لیکن عمر نے وفا نہ کی۔ایک نہایت المناک ہوائی حادثے کا شکار ہو گئے سردار سر سکندر حیات خاں صاحب میر عباد اللہ صاحب کے داماد تھے۔اورسہ دار شوکت حیات خاں صاحب ان کے نواسے اور اپنے ماموں میر مقبول محمود صاحب کے داماد ہیں۔دیوان سیتا رام صاحب منصف | دیوان سیتا رام صاحب سیالکوٹ میں منصف تھے نہایت قابل اور بیدار مغزاف تھے۔اپنے فرائض کی ادائیگی میں کسی قسم کی رو رعایت روا نہیں رکھتے تھے۔بعد میں سب حج اور سفیر سب جج ہوئے۔میرا خیال ہے کہ مشن پر جانے سے پہلے ڈسٹرکٹ ** & اور سیشن بھی بھی ہو گئے تھے۔لباس اور وضع قطع میں بہت سادہ تھے۔لیکن پختہ کار اور تھے۔ہمارے گاؤں کے رقبے میں سے ہرا پہ چناب کی ایک شارخ نکالی گئی تھی جس کا نام اب بھیانوالہ رادی بیدیاں ہنر ہے۔اسی رقبے میں ایک سائفن بنایا گیا جہاں نہر کا پانی نیچے سے ہو کر گزرتا تھا۔گیا اور بارش کے مہینے میں بارش کا پانی سطح پر سے گزر جاتا تھا۔چونکہ سائفن کا قطر ضرورت سے کچھار کی کیا