تحدیث نعمت — Page 87
16 فنلینڈ پیٹرز برگ سے تم گوائی بورگ ہوتے ہوئے نشلاٹ گئے۔فنلینڈ میں ان دنوں رواج تھا کہ گرمی کی تعطیلات میں جب زائرین کے آنے کا موسم ہوتا تو سیر کے مقامات پر زائرین کی سہولت کیلئے دفاتر کھول دیے جاتے پڑھے لکھے نوجوان اور نخوامین رضا کارانہ طور پر ان میں ختلاف خدمات بجالاتے بیس سے زائرین کو بہت ملی ملی اور ہر قسم کی سہولت میسر آجاتی۔ان دونوں نشان میں اس دفتر کی انچارج ایک نہایت سلجھی ہوئی طبیعت کی خاتون مس نینا تھیں۔جو ہمارے ساتھ بہت خوش خلقی سے پیش آئیں اور یہیں اپنا پر دگرام بنانے کیلئے جن معلومات کی ضرورت تھی بہم پہنچائیں۔نشلات سے ہم اما تم گئے میاں کا ہوٹل نہایت خوشنما جگہ پر واقعہ ہے۔ہوٹل کے عین نیچے دریا بہتا ہے۔میرے کمرے سے انتہا کی ابشار کا نظارہ بڑا دلفریب تھا۔ہوٹل سے دریا تک اترنے کیلئے راستہ بنا ہوا تھا۔اگرچہ اس مقام پر بھی پانی زور سے اور بڑی بڑی چٹانوں کے گرد ہو کہ بتا تھا پھر بھی وہاں ایک محتاط آدمی کیلئے بنانے میں کوئی ایسا خطرہ نہیں تھا۔ہم دور اس ہوٹل میں ٹھہرے اور دونوں صبح دریا میں بنانے کا لطف اٹھایا۔پانی پنج کی مانند ٹھنڈا تھا اور ہم ایک وقت میں چند لحظوں سے زیادہ پانی کے اندر ٹھہرنا برداشت نہیں کر سکتے تھے۔میں نے سنا ہے کہ اب انا ترا میں کوئی آبشار نہیں۔کیونکہ دریا کا پانی بجلی پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔تجو ٹر با عنیز میں سے ہو کہ یہ بجاتا ہے۔ترقی کے معبد یہ ایک اور بھینٹ ! اما تم اسے ہم پھر ولمین سٹرینڈ گئے اور وہاں سے جہانہ پیر کو ہو گئے۔یہ تمام سفر تھیل میں سے تھا اور نہایت پر لطف رہا۔فنلینڈ میں ایک لمبا سلسلہ جھیلوں ، جزیروں اور جنگلات کا چلا جاتا ہے۔جہانہ کے اس سفر کے کسی حصے میں بھی ایک وقت نصف بلکہ پو تھائی میل سے زیادہ پانی کی سطح نظر نہیں آتی۔جہانہ چاروں طرف سبز تجمد یروں سے گھرا ہوا نظر آتا ہے۔اور سہہ پہروں کے بیچوں بیچے اپنا رستہ تلاش کرتا ہے۔کو سپور سے ہم پریل پیر کھانا گئے۔ریل کی یہ شاخ یہاں ختم ہو جاتی تھی۔یہ شہر اسی نام کی وسیع تجھیل کے جنوب مغربی کنارے پر واقعہ ہے۔آبادی کے لحاظ سے تو اس وقت اس کی حیثیت ایک بڑے گاؤں یا ایک جھوٹے قصے سے بڑھ کر نہیں تھی۔لیکن فنلینڈ کے شمالی حصے کی جنگلاتی پیداوارہ کا مخرج ہونے کی وجہ سے اسے بڑی اہمیت حاصل تھی۔سب عمارتیں لکڑی کی تھیں ہمارا مختصر سا ہوٹل بھی سب لکڑی کا بنا ہوا تھا۔ہوا چڑا اور سمجھ قسم کے در نعتوں کی خوشبو سے لدی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ہوٹل جھیل کے کنارے پر تھا۔اور اس کے عین نیچے جھیل کے جہانوں کے مسافروں کے اترنے اور پڑھنے کی جگہ تھی۔ہم چانہ کے بعد دو سپر نیچے تھے۔آرام سے بیٹھ کر جھیل کا نظارہ کر