تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 86 of 736

تحدیث نعمت — Page 86

14 میں سرمائی محل زالہ کی قیام گاہ تھا۔یہ محل اتنا وسیع ہے کہ جب یہ ندارہ کی قیام گاہ تھا تو سب سے اویر کی منزل پر جہاں خدام شاہی رہا کرتے تھے چھت پر انہوں نے گائے اور دیگر پالتو جانور ر کھے ہوئے تھے۔ان محلات کے عجائبات میں سے رسے قیمتی شاہی خاندان کے جواہرات اور نہ یورات ہمیں ان محلات میں اب تو زائرین کا ہر وقت خوب جھمگھٹا رہتا ہے۔ساء میں زائرین کا استقدیر نجوم نہیں ہوا کرتا تھا۔سواء میں دینیٹر پلیس اور ہر بیٹیج کا باہر کا پلستر گہرے سرخ رنگ کا ہوا کرتا تھا اب سفید اور ہلکا سبز ہے جو نسبتاً بہت خوشنا معلوم ہوتا ہے۔گریجے اور محلات کے درمیان نار پطرس اعظم کا ایک مجسمہ ہے جس میں وہ گھوڑے پر سوار ہے۔مجھتے کا رخ دریائے نینوا کی طرف ہے۔ماہرین فن اس کی بہت تعریف کرتے ہیں۔گھوڑا اور سوار دونوں نیز حرکت کی حالت میں نظر آتے ہیں۔گھوڑے کے اگلے دونوں پاؤں زمین سے اٹھے ہوئے ہیں اور گھوڑے اور سوالہ دونوں کا سارا بوجھ گھوٹے کے پچھلے دو پاؤں اور دم پر ہے۔دم بہت بھاری بنائی گئی ہے۔اور پچھلے دونوں پاؤں کی مانند زمین پر لگی ہوئی ہے۔اس طرح پچھلے دونوں پاؤں اور دم کا ایک نکونہ بن گیا ہے۔جو محبتے کا سارا بو مسجد سہما سے ہوئے ہے۔سردار محمد اکبر خالصاحب اور میں پیٹر نہ رگ سے باہر پیر ناف میں زائد کا محل دیکھنے بھی گئے۔یہ محل بھی فیلج فنلینڈ کے کنا سے پر ہے اور اس کے باغات اور فواروں کا نظارہ بہت دلفزا ہے۔پیٹر نہ برگ سے ہم ریل پر گئے۔یہ ریل بالٹک ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہوتی تھی۔اسٹیشن پر گاڑی کے روانہ ہونے سے پہلے ہم نے ایک فوجی افسر کو اپنے دو ساتھی افسروں کے رو بہ وایک سپاسی سے حجر ان کے لئے کوئی پاریس لایا تھا نہایت مہتک آمیز سلوک کرتے دیکھا۔سپاہی کے رویئے سے ظاہر ہوتا تھا کہ اسے اس سے بہتر سلوک کی توقع نہیں تھی۔ہمیں اس سے تعجب ہوا۔اور ہم نے یہ اشتہ لیا کہ ان دنوں روسی فوج میں افسران اور سپاہیوں کے درمیان اخلاص اور احترام کے بعد بیات کی فراوانی نہیں تھی۔ہم پیریان کے محل کے اندر تو نہ گئے کیونکہ وہاں پرے وغیرہ کے انتظام سے الیسا معلوم ہوتا تھا کہ ندار اور شاہی خاندان کے افراد وہاں سکونت پذیمہ ہیں۔باغ کی سیر سے ضرور لطف اندوز ہوئے اسٹیشن پر واپس آنے تک شام کے کھانے کا وقت ہورہا تھا۔ہم نے چاہا کہ کھانا اسٹیشن پری کھائیں۔پیٹ نہ برگ واپس پہنچنے کا انظار نہ کریں۔ہم کھانے کے کمرے میں چلے گئے نین و بال انگیزی کوئی نہیں سمجھتا تھا۔مینجر نے ہمیں اشارے سے سمجھایا کہ ذرا انتظارہ کرد۔وہ جاکر ایک افسر کو لے آیا مجھو انگریزی سمجھتا تھا۔اس نے ہماری ترجمانی کی۔جلد ہمارا مطلوبہ کھانا مل گیا۔ہجوم نے بہت پسند کیا قیمت بھی مناسب تھی۔کھانا ختم کرنے کے جلد بعد ہماری کوڑی آگئی اور ہم بآرام والپس پیٹرز برگ پہنچ گئے۔۔