تذکرہ — Page 798
ہم دس پندرہ عورتیں حضور ؑ کے ہمراہ ہوں گی۔واپسی پر اسی بازار میں سے گزرتے ہوئے چوک میں جو مسجد اقصیٰ کے متّصل شمال میں ہے کنوئیں کے پاس ٹھہر گئے اور سوٹی کی نوک زمین میں لگا کر فرمایا کہ یہ عنقریب احمدی بازار کہلائے گا اور یہاں احمدی ہی احمدی ہوں گے۔‘‘ (اصحابِ احمد مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب جلد۶صفحہ ۱۲۳ ،۱۲۴ طبع اوّل) ۸۵۔مرزا غلام اللہ صاحبؓ انصار ساکن قادیان فرماتے ہیں۔’’میرے بھائی نظام الدین صاحبؓ نے ذکر کیا کہ جن دنوں حضرت صاحب ؑ سیالکوٹ میں نوکر تھے مَیں بھی آپ کے ساتھ تھا۔مجھے حضرت صاحب ؑ پڑھایا بھی کرتے تھے۔آپ ؑ وہاں بھیم سین وکیل کو جو ہندو تھا، قرآن شریف پڑھایا کرتے تھے اور اس نے تقریباً چودہ پارہ تک قرآن حضرت صاحب ؑ سے پڑھا تھا۔ایک دن حضرت صاحب ؑ نے صبح اُٹھ کر بھیم سین کو مخاطب کرکے یہ خواب سنایا کہ آج رات مَیں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔آپ ؐ مجھ کو بارگاہِ ایزدی میں لے گئے اور وہاں سے مجھے ایک چیز ملی جس کے متعلق ارشاد ہوا کہ یہ سارے جہان کو تقسیم کردو۔‘‘ (سیرتِ احمد ؑ مصنّفہ مولوی قدرت اللہ صاحب ؓ سنوری صفحہ ۱۸۲ ، ۱۸۳ روایت نمبر ۶۶) ۸۶۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا۔’’ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت مولوی صاحب خلیفہ اوّلؓ نے مسجد مبارک کے پاس کے کمرہ میں جہاں اُس وقت مولوی محمد علی صاحب رہتے تھے اجلاس صدر انجمن احمدیہ کے دوران میں آ کر فرمایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے کہ ’’آپ کے خاندان کو اڑھائی سو روپیہ ماہوار خرچ کے لئے دیا جائے۔‘‘ (پیغام صُلح کے چند الزامات کی تردید۔تقریر فرمودہ ۱۰؍ ستمبر ۱۹۱۶ء۔انوار العلوم جلد ۳ صفحہ ۳۹۰ شائع کردہ فضل عمر فاؤنڈیشن پاکستان) ۸۷۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت سیّدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ ’’جب میں بڑی ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کوٹھے پر ایک کمرہ جو بیت العافیت کہلاتا تھا میرے لئے الگ کردیا کہ یہ تمہارا کمرہ ہے …… میں اپنی چیزیں وہاں رکھتی تھی۔اپنا کام وغیرہ وہیں کیا کرتی