تذکرہ — Page 797
مطلب یہ کہ اولاد والا ہوگا …پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میرے لئے ساری رات دُعا کی اور حضرت اُمّ المؤمنین (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) اور دو اَور عورتوں کو پاس باری باری بٹھا یا اور ساری رات میرے لئے دُعا کی اور آخر اللہ تعالیٰ نے مجھے موت سے نجات بخشی اور شفا عطا فرمائی۔‘‘ (کاپی مولوی صدرالدین صاحب) ۸۱۔مولوی محمد اسمٰعیل صاحبؓ فاضل پروفیسر جامعہ احمدیہ مرحوم و مغفور فرماتے تھے کہ مَیں نے متعدد مرتبہ حضرت میاں عبداللہ صاحبؓ سنوری مرحوم سے سنا تھا کہ مجھ پر جس قدر حالات (میری زندگی میں) آنے والے تھے وہ سب مجھے حضور ؑ نے پہلے سے بتادیئے ہوئے تھے اور اس کے مطابق وہ سب مجھ پر گزرے اور حضور ؑ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تمہاری وفات جمعہ کے روز ہوگی۔آپ کی وفات (۷؍ اکتوبر ۱۹۲۷ءکو جمعہ کے روز) قادیان میں ہوئی اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔‘‘ ( طبع اوّل میں یہ روایت صفحہ ۱۳۴ کے حاشیہ میں دی گئی ہے۔جبکہ طبع ثانی میں اسے ضمیمہ کے متن میں دیا گیا ہے) ۸۲۔قاضی محمد یوسف صاحب ؓ امیر جماعت ِ احمدیہ سرحد اپنی تصنیف ’’ سوانح ظہورِ احمد ِ موعود ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ۔’’حضرت احمد ؑ نے جماعت کے بارہ میں کوئی شکایت کی تو یہ الہام ہوا۔بھمیں مَردماں بباید ساخت یعنی انہیں لوگوں کے ساتھ گذارہ کرنا ہے۔‘‘ (ظہورِ احمد ِ موعود ؑ صفحہ ۵۱ مطبوعہ ۳۰ ؍ جنوری ۱۹۵۵ء) ۸۳۔مولوی عبداللہ صاحب ؓ بوتالوی تحریر فرماتے ہیں۔’’خاکسار جب قادیان آیا تو میرے ایّامِ قیام میں ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام گھر سے مسجد مبارک میں تشریف لائے …حضور ؑ نے کھڑے کھڑے فرمایا کہ شاید کسی دوست کو یاد ہو ہم نے ایک دفعہ پہلے بھی بتایا تھا کہ ہمیں دکھلایا گیا ہے کہ اِس چھوٹی مسجد (مبارک) سے لے کر بڑی مسجد (اقصیٰ) تک مسجد ہی مسجد ہے …اس کے بعد حضور ؑ نے فرمایا کہ اَب مجھے پھر یہی دکھایا گیا ہے کہ اِس چھوٹی مسجد سے لے کر بڑی مسجد تک مسجد ہی مسجد ہے۔‘‘ (اصحابِ احمد مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب جلد ۷صفحہ ۲۰۷ مطبوعہ اگست ۱۹۶۰ء) ۸۴۔محترمہ صالحہ بی بی صاحبہ ؓ اہلیہ قاضی عبدالرحیم صاحب ؓ فرماتی ہیں کہ ’’ہندوؤں والے بازار میں سے جو اَب بڑا بازار کہلاتا ہے اور اُس وقت چھوٹا سا تھا ایک دفعہ حضور ؑ ( وہاں سے ) گزر کر سَیر کے لئے شمال کی طرف جہاں اَب حضرت مولوی شیر علی صاحب ؓ کا گھر۱؎ ہے، تشریف لے گئے۔۱ آپؓ محلہ دار العلوم قادیان میں رہتے تھے۔(ناشر)