تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 796 of 1089

تذکرہ — Page 796

’’محمد حسین ڈپٹی کمشنر بنے گا۱؎ اور جلال اس کے گھوڑے کو چارہ ڈالا کرے گا۔‘‘ حضرت اُمّ المؤمنین نے جب یہ الفاظ سنے تو فوراً اُٹھ کر اندر گئیں اور میری بیوی کو جاکر مبارکباد دی۔‘‘ (رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۱۱صفحہ ۹۲) ۷۹۔منشی ظفر احمدصاحبؓ کپورتھلوی نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلا م نے فرمایا۔’’ رات مَیں نےرؤیادیکھا کہ میرے خدا کو کوئی گالیاں دیتا ہے۔مجھے اس کا بڑا صدمہ ہوا۔جب آپ ؑ نےرؤیا ذکر فرمایا تو اس سے اگلے روز چودھری۲؎صاحب کا لڑکا فوت ہوگیا۔کیونکہ ایک ہی لڑکا تھا اس کی والدہ نے بہت جزع فزع کی اور اس حالت میں اس کے منہ سے ( یہ کلمہ) نکلا۔ارے ظالم تو نے مجھ پر بڑا ظلم کیا۔‘‘ (رجسٹر روایاتِ۳؎ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۱۳صفحہ ۳۶۱) ۸۰۔مولوی صدرالدین صاحب سابق مبلّغ ایران نے خاکسار عبداللطیف بہاولپوری مرتّب کو اپنی روایات کی کاپی میں سے ایک یہ روایت سنائی کہ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک خادم فضل الدین صاحب المعروف فجّا نے انہیں ایک روایت سنائی کہ ’’ایک دفعہ اتفاقاًایک لیمپ میں تیل ڈالتے ہوئے میرے کپڑوں میں آگ لگ گئی… میرا بہت سا جسم جَل گیا اور ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحبؓ کہنے لگے کہ یہ بیس منٹ سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا۔حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ فرمانے لگے کہ ایک گھنٹہ بمشکل زندہ رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمانے لگے کہ ’’ مَیں نے ابھی رؤیادیکھا ہے اور اس کو باغ میں دیکھا ہے۔‘‘ ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) چنانچہ آخری عمر میں جبکہ وہ افریقہ میں تھے نیروبی کا ڈپٹی کمشنر جب چار ماہ کی رخصت پر گیا تو اُس کا عارضی قائم مقام محمد حسین کو مقرر کیا گیا۔(رجسٹر روایاتِ صحابہ نمبر ۱۱ صفحہ ۹۵) ۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یعنی چودھری رستم علی خاں صاحبؓ مرحوم انسپکٹر ریلوے، جو اُن دنوں قادیان میں دارِ مسیح میں قیام پذیر تھے۔۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) منشی عبدالرحمٰن صاحبؓ کی روایت جو الحکم پرچہ ۷؍نومبر۱۹۳۴ء صفحہ ۶ پر شائع ہوئی ہے۔اس میں اس واقعہ بے اَدبی کا تو ذکر ہے مگر ابتدائی حصّہ یعنی رؤیا کا ذکر نہیں۔(نوٹ از مولانا عبد اللطیف صاحب بہاولپوری) حضور ؑ کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو سخت ناراض ہوئے اور اُسے گھر سے نکل جانے کا حکم فرمایا۔(رجسٹر مذکور