تذکرہ — Page 795
۷۶۔شیخ زَین العابدین صاحبؓ ولد شیخ فتح محمد صاحب سکنہ تھہ غلام نبی ضلع گورداسپور روایت کرتے ہیں کہ ’’ایک دفعہ ہمارے بڑے بھائی برکت علی صاحب شدید بیمار ہوگئے اور جسم پنجر کی طرح رہ گیا۔یہاں (قادیان) لے آئے۔حضرت صاحب ؑ دو ماہ تک علاج کرتے رہے۔آخر … حضور ؑ نے بھائی حامد علی صاحب کو فرمایا کہ اَب تم اپنے بھائی کو واپس لے جاؤ اس کا بچنا محال ہے …آدمی (کہار کو بلانے کے لئے ) گاؤں کو چل پڑا۔ابھی غالباً رجاوہ۱؎ہی پہنچا ہوگا کہ پیچھے سے حضرت صاحب ؑ کو الہام ہوگیا کہ۔’’برکت علی صحت یاب ہوجائے گا‘‘ حضور ؑ نے اُسی وقت حامد علی کو بلا کر فرمایا کہ جس آدمی کو آپ نے بھیجا ہے واپس بلالو …آدمی واپس آگیا اور دوسرے دن بخار ٹوٹ گیا۔‘‘ (رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۱۱صفحہ ۶۵) ۷۷۔شیخ زین العابدین صاحب ؓ نے بیان کیا کہ۔’’مہر علی۲؎ کو یہاں۳؎ لایا گیا تو حضور ؑ نے اس کا مہینہ ڈیڑھ مہینہ علاج کیا۔مروڑہَٹ گئے مگر حضور ؑ کو الہام ہوا کہ یہ بچہ بچ نہیں سکے گا…مگر یہ خیال رکھنا کہ یہ چلتا پھرتا مرے گا لیٹا ہوا نہیں مرے گا۔جس دن اس نے مرنا تھا بازار چلا گیا اور سیر دُودھ پیا اور شام کے قریب گھر آیا…والدہ نے اُسے کھڑے کھڑے چھاتی سے لگایا مگر اسی حالت میں اس کی جان نکل گئی۔حضرت صاحب ؑ نے جنازہ پڑھایا اور یہیں دفن کیا۔‘‘ (رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۱۱ صفحہ ۶۶، ۶۷) ۷۸۔ملک غلام حسین صاحبؓ رہتاسی مہاجر خادم المسیح محلہ دار الرحمت قادیان کا بیان ہے کہ حضرت صاحب ؑ شام کی نماز پڑھ کر مسجد میں لیٹ جایا کرتے تھے اور بچے حضور ؑ کو دبایا کرتے تھے۔میرا بچہ محمد حسین بھی دبا رہا تھا۔حضرت اقدس ؑ کی آنکھیں بند تھیں۔ایک اَو ر لڑکا جلال جو ’’پٹّی‘‘ کا تھا اور مغل تھا وہ بھی دبا رہا تھا۔حضرت اُمّ المؤمنین (رضی اللہ تعالیٰ عنہا)بھی پاس بیٹھے تھے۔یک دم حضرت صاحب ؑ نے جو آنکھ کھولی تو فرمایا کہ ۱ قادیان کے قریب ایک گائوں۔(شمس) ۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یعنی راوی شیخ زین العابدین صاحبؓ کا بھائی جو سخت بیمار تھا۔جسے چھ ماہ سے دست آرہے تھے۔۳ یعنی قادیان میں۔(شمس)