تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 793 of 1089

تذکرہ — Page 793

اور گاڑی بازار قادیان میں کھڑی ہوگئی۔‘‘ ۱؎ ( اصحاب احمد مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب جلد ہفتم صفحہ ۱۳۱ مطبوعہ اگست ۱۹۶۰ء) ۶۸۔مکرم میاں امام الدین صاحبؓ سیکھوانی ضلع گورداسپور بیان کرتے ہیں۔’’ اَرْضُ اللّٰہِ لَیِّنَۃٌ وَ مُلْکٌ لَّیِّنٌ۔‘‘۲؎ (رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر۵ صفحہ ۶۲ ) ۶۹۔مکرم بدر الدین صاحبؓ ولد گل محمد صاحب سابق مالیر کوٹلہ حال قادیان بیان کرتے ہیں۔’’رات کو نو بج چکے تھے … حضور ؑ اپنے ہاتھ میں ایک پیالہ، جس میں دُودھ اور ڈبل روٹی پڑی تھی، اُٹھائے کنویں پر آگئے اور آکر میرے والد صاحب سے فرمانے لگے ’’ باباجی کوئی مہمان بھوکا ہے‘‘ …جب مہمان خانہ میں جاکر مہمانوں سے معلوم کیا تو کوئی نہ ملا۔تو پھر ہم شیر محمد صاحب دکاندار والی دکان جو اس وقت کھلی تھی کے پاس پہنچے تو وہاں سے ایک صاحب نے کہا کہ حضور مَیں نے دُودھ ڈبل روٹی کھانی ہے۔اِس پر حضور ؑ نے وہ پیالہ اُس صاحب کو دے دیا۔‘‘ (رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۷ صفحہ ۱۷۰ ) ۷۰۔(الف) مکرم میاں فضل الدین عبداللہ صاحبؓ ولد محمد بخش صاحب قادیان روایت کرتے ہیں۔حضور ؑ نے فرمایا۔’’ مخالف ہماری تبلیغ کو روکنا چاہتے ہیں، مجھے تو اللہ تعالیٰ نے میری جماعت ریت کے ذرّوں کی طرح دکھائی ہے۔‘‘ (رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۸ صفحہ ۲۰۳ ) (ب) شیخ عبدالکریم صاحبؓ جلد ساز کراچی روایت کرتے ہیں کہ ایک روز سیر کے موقع پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔’’ مَیں اپنی جماعت کو رشیا کے علاقہ میں ریت کی مانند دیکھتا ہوں۔‘‘ (رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۱۲ صفحہ ۱۱۴ ) ۷۱۔بابو غلام محمد صاحبؓ ریٹائرڈ ڈرافٹسمین لاہور بیان کرتے ہیں کہ ’’حضورؑ نےفرمایا کہ مجھے ابھی غنودگی سی ہوگئی اور مَیں نے دیکھا کہ میرے دائیں بائیں رحمت اللہ کے بچے ہیں اور … فرمایا رحمت اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔‘‘ (رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۹صفحہ ۶۹) ۷۲۔میاں عبدالعزیز صاحبؓ المعروف مغل سکنہ لاہور روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ بہت قحط پڑگیا اور آٹا ۱ (نوٹ از سید عبد الحی) یہ پیشگوئی بعینہٖ ۱۹۲۸ء میں پوری ہوئی اور ریل گاڑی قادیان تک پہنچی اور وہی اس کا آخری سٹیشن تھا۔۲ (ترجمہ از مرتّب) خدا کی زمین نرم ہے اور حکومت بھی نرم ہے۔