تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 791 of 1089

تذکرہ — Page 791

۶۱۔فرمایا۔’’مَیں نے کشف میں دیکھا ہے کہ اِس سال ہمارے تین چار دوست داغِ مفارقت دے جائیں گے۔مَیں۱؎نے عرض کیا حضور ! وہ قادیان میں سے تو نہیں۔فرمایا نہیں۔پھر مَیں نے عرض کیا کہ حضور وہ کپورتھلہ کے تو نہیں؟فرمایا نہیں کپورتھلہ تو قادیان کا ایک محلّہ ہے۔‘‘ (الفضل جلد۲۶ نمبر۷۵مورخہ یکم اپریل ۱۹۳۸ء صفحہ ۴) ۶۲۔’’خدا نے مجھے آپ کے بارہ میں علم دیا ہے کہ آپ جن ہموم۲؎و غموم میں مبتلا ہیں اُن کو خدا تعالیٰ میری دعا سے ٹال دے گا بشرطیکہ آپ خدا کے مامور پر ایمان لے آئیں۔‘‘ (الفضل جلد۳۱ نمبر۲۵۱مورخہ ۲۶؍ اکتوبر ۱۹۴۳ءصفحہ ۳ خط بنام نواب صاحب رام پور) ۶۳۔(الف) مکرم میاں اللہ دِتّا صاحبؓ سہرانی سکنہ بستی رنداں ضلع ڈیرہ غازی خان روایت کرتے ہیں کہ حضرت اقدسؑ نے فرمایا۔’’ رات۳؎اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ … لنگر خانہ میں رات کو رِیا کیا گیا ہے۔‘‘ (فرمایا)۔’’اب جو لنگر خانہ میں کام کررہے ہیں ان کو علیحدہ کرکے قادیان سے چھ ماہ تک نکال دیں اور ایسے شخص مقرر کئے جائیں جو نیک فطرت ہوں اور صالح ہوں۔‘‘ (رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۳ صفحہ ۱۹۴) (ب) مکرم میاں اللہ دِتّا صاحبؓ سہرانی سکنہ بستی رنداں ضلع ڈیرہ غازی خاں روایت کرتے ہیں کہ حضرت اقدسؑ نے فرمایا۔’’ رات خدا تعالیٰ کی طرف سے جھڑک آئی ہے میرا لنگر ذرا بھی منظور نہیں ہوا کیونکہ اس میں رِیا کیا گیا ہے۔مسکین محروم رہ گئے ہیں اور اُمراء کو اچھا کھانا کھلایا گیا ہے۔پھر کھانے کا اِنتظام حضرت صاحب ؑ نے اپنے سامنے کروایا اور سب کو ایک قسم کا کھانا کھلایا۔‘‘ ( رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۳ ۱صفحہ ۱۰۹) ۶۴۔مولوی عبد العزیز صاحبؓ آف بھینی شرقپور ضلع شیخوپورہ بیان کرتے ہیں کہ ’’ایک صاحب ایران ۱ یعنی منشی ظفر احمد صاحبؓ کپورتھلوی۔(عبد اللطیف بہاولپوری) ۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) نواب صاحب ان ایام میں بہت رنجیدہ تھے جس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی ایک چہیتی بیوی مرضِ سِل میں مبتلا تھی اور اس کے علاج و معالجہ میں بہت کوشش کی گئی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکی۔اس رنج و غم کی اطلاع خدا نے آپ کو دی۔(الفضل مورخہ ۲۶؍ اکتوبر ۱۹۴۳ء صفحہ ۳) ۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) میاں اللہ دِتّا صاحب بتاتے ہیں کہ یہ عید کا موقعہ تھا۔لنگر خانہ میں خاص و عام کی تمیز کی گئی۔میرے دل میں بد گمانی پیدا ہوئی۔صبح جب حضور ؑ نے یہ الہام سنایا تو وسوسہ جاتا رہا۔(ملخص از روایات مذکورہ بالا رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ نمبر ۳ صفحہ۱۹۴، و نمبر۱۳ صفحہ ۱۰۹)