تذکرہ — Page 748
فروری۱۸۹۲ء حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بیان فرماتے تھے کہ۔’’ایک دفعہ کسی بحث۱؎ کے دَوران میں حضرت مسیح موعود ؑ سے کسی مخالف نے کوئی حوالہ طلب کیا…حضرت صاحب ؑ نے بخاری کا ایک نسخہ منگایا اور یونہی اس کی ورق گردانی شروع کردی اور جلد جلد ایک ایک ورق اُس کا اُلٹانے لگ گئے اور آخر ایک جگہ پہنچ کر آپ ٹھہر گئے اور کہا لو یہ لکھ لو۔دیکھنے والے سب حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے اور کسی نے حضرت صاحب سے دریافت بھی کیا جس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ ’’جب مَیں نے کتاب ہاتھ میں لے کر ورق اُلٹانے شروع کئے تو مجھے کتاب کے صفحات ایسے نظر آتے تھے کہ گویا وہ خالی ہیں اور اُن پر کچھ نہیں لکھا ہوا اِسی لئے مَیں ان کو جلد جلد اُلٹا تا گیا۔آخر مجھے ایک صفحہ ملا جس پر کچھ لکھا ہوا تھا اور مجھے یقین ہوا کہ یہ وہی حوالہ ہے جس کی مجھے ضرورت ہے۔‘‘ (سیرت المہدی مؤلفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے، جلد ۱ روایت نمبر ۳۰۶ صفحہ ۲۸۲ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۹۲ء (الف) حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔’’ملکہ وکٹوریہ کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے خبر دے دی۔’’سلطنتِ برطانیه تا ھشت سال بعد ازاں ضعف و فساد و اِختلال‘‘ اور یہ آٹھ سال جاکر ملکہ وکٹوریہ کی وفات۲؎ پر پورے ہوگئے۔‘‘ (الفضل جلد ۱۶ نمبر ۷۸ مورخہ ۵؍ اپریل ۱۹۲۹ءصفحہ ۵) ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) مکرم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ لکھتے ہیں۔’’ جہاں تک میری یاد مساعدت کرتی ہے …یہ واقعہ لاہور میں ہوا تھا۔مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ’’محدثیت اور نبوت ‘‘ پر بحث ہوئی تھی …حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محدثیت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے بخاری کی اس حدیث کا حوالہ دیا جس میں حضرت عمر ؓ کی محدثیت پر استدلال تھا۔مولوی عبدالحکیم صاحب کے مددگار وں میں سے مولوی احمد علی صاحب نے حوالہ کا مطالبہ کیا اور بخاری خود بھیج دی۔مولوی محمد احسن صاحب نے حوالہ نکالنے کی کوشش کی مگر نہ نکلا۔آخر حضرت مسیح موعود ؑ نے خود نکال کر پیش کیا … جب حضرت صاحب نے یہ حدیث نکال کر دکھا دی تو فریقِ مخالف پر گویا ایک موت وارد ہوگئی…اسی پر مباحثہ ختم کردیا۔‘‘ (سیرت المہدی مؤلفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے، جلد ۱ روایت نمبر ۴۷۲ صفحہ ۴۹۶ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۲ ملکہ وکٹوریہ کا انتقال ۲۲؍ جنوری ۱۹۰۱ء میں ہوا۔(شمس)