تذکرہ — Page 738
(ب) ’’ مکن تکیہ بر عمرِ ناپائیدار۔‘‘ ( بدر جلد۷نمبر ۲۲مورخہ ۲؍ جون۱۹۰۸ء صفحہ۳) ۲۰؍ مئی۱۹۰۸ء ’’ اَلرَّحِیْلُ ثُمَّ الرَّحِیْلُ۔اَ لْمَوْتُ قَرِیْبٌ۔‘‘۲؎ ( بدر جلد۷نمبر ۲۲مورخہ ۲؍ جون۱۹۰۸ء صفحہ۳) تَــــــــــــــــــمَّ ظظظظظ بقیہ حاشیہ۔کو منظور بھی فرمالیا تھا۔۱۶ کی رات کو حضرت اقدس ؑ کی طبیعت ناساز ہوگئی ا ور متواتر چند دَست آجانے کی وجہ سے بہت ضعف ہوگیا چنانچہ ۱۷ کی صبح کو جب حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام بیدار ہوئے تو یہ الہام ہوا اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ چنانچہ اس وعدۂ الٰہی سے طاقت پاکر حضرت اقدس ؑ نے اِس موقع پر قریباً اڑھائی گھنٹہ تک کھڑے ہوکر بڑی پُر زور تقریر فرمائی۔‘‘ ( الحکم مورخہ ۳۰؍ مئی۱۹۰۸ء صفحہ ۱) ۱ (ترجمہ از مرتّب) ناپائیدار عمر پر بھروسہ مت کر۔(نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) اِس الہام میں سنِ وفات بھی بتایا گیا ہے چنانچہ اس کے اعداد ۱۳۲۶ ہیں۔۲ (ترجمہ) اب کوچ کا وقت آگیا۔ہاں کوچ کا وقت آگیا اور موت قریب ہے۔(بدر مورخہ ۲؍جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۳)