تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 737 of 1089

تذکرہ — Page 737

۱۰؍ مئی۱۹۰۸ء ’’ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَـمِلُوا الصَّالِـحَاتِ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَـجْرِیْ مِنْ تَـحْتِـھَا الْاَنْـھَارُ۔‘‘۱؎ ( الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۶ مورخہ ۲؍ جون۱۹۰۸ء صفحہ ۵) ۱۵؍ مئی۱۹۰۸ء (الف) ’’ ایک۲؎ دفعہ مجھے بعض محقق اور حاذق طبیبوں کی بعض کتابیں کشفی رنگ میں دکھلائی گئیں جو طبِّ جسمانی کے قواعدِ کُلّیہ اور اصولِ علمیّہ اور سِتَّہ ضروریہ وغیرہ کی بحث پر مشتمل اور متضمّن تھیں جن میں طبیب حاذق قرشی کی کتاب بھی تھی اور اشارہ کیا گیا کہ یہی تفسیر قرآن ہے اس سے معلوم ہوا کہ عِلْمُ الْاَبدَان اور عِلْمُ الْاَدیَان میں نہایت گہرے اور عمیق تعلقات ہیں اور ایک دوسرے کے مصدّق ہیں۔اور جب مَیں نے اُن کتابوں کو پیشِ نظر رکھ کر جو طِبِّ جسمانی کی کتابیں تھیں قرآن شریف پر نظر ڈالی تو وہ عمیق در عمیق طبِّ جسمانی کے قواعد کُلّیہ کی باتیں نہایت بلیغ پَیرایہ میں قرآن شریف میں موجود پائیں۔‘‘ ( چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۰۳) (ب) ’’ ڈرو مت مومنو۔‘‘ ( بدر جلد۷نمبر ۲۱مورخہ ۲۶؍ مئی۱۹۰۸ء صفحہ۷۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۵مورخہ ۳۰؍ مئی۱۹۰۸ء صفحہ ۱) ۱۷؍ مئی۱۹۰۸ء (الف) ’’ اِ نِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ۔‘‘۳؎ ( بدر جلد۷نمبر ۲۱مورخہ ۲۶؍ مئی۱۹۰۸ء صفحہ۷۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۵مورخہ ۳۰؍ مئی۱۹۰۸ء صفحہ ۱) ۱ (ترجمہ از مرتّب) جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کئے بلاشبہ ان کے لئے جَنّات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) چونکہ نزولِ الہام کی صحیح تاریخ معلوم نہیں ہوسکی اِس لئے اسے سن تصنیف کتاب چشمۂ معرفت ۱۵؍ مئی ۱۹۰۸ء کے ماتحت درج کیا گیا۔۳ (ترجمہ از مرتّب) مَیں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔(نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) حضرت مہتہ عبدالرحمٰن صاحب قادیانی ؓ اِس الہام کے شانِ نزول پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔’’۱۷ ؍ مئی کی صبح کو مکرمی جناب خواجہ کمال الدین صاحب نے چند معزز تعلیم یافتہ رؤساءِ لاہور کی دعوت کی تھی اور حضرت اقدس ؑسے اس موقع پر کچھ تقریر کرنے کی بھی درخواست کی تھی چنانچہ حضرت اقدس ؑ نے اس