تذکرہ — Page 720
اِس کے بعد ایک اَور الہام ہے جس کے اظہار کی اجازت نہیں شاید بعد میں اجاز ت ہوجائے۔اس کا پہلا فقرہ یہ ہے۔’’دیکھ مَیں ایک نہایت چھپی ہوئی بات پیش کرتا ہوں۔‘‘ ( بدر جلد۶ نمبر ۴۶مورخہ ۱۰؍ نومبر۱۹۰۷ء صفحہ ۲) (اسی الہام کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ کو اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں) ’’نہایت خوفناک امر جو ہر وقت دل کو غمناک کرتا رہتا ہے ایک پیشگوئی ہے جو چند دفعہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوچکی ہے۔مَیں نے بجز گھر کے لوگوں کے کسی پر اس کو ظاہر نہیں کیا۔اس پیشگوئی کے ایک حصّہ کا حادثہ ہم میں اور آپ میں مشترک ہے۔بہت دُعا کرتا ہوں کہ خدا اس کو ٹال دے اور دوسرے حصّہ کا حادثہ خاص ہم سے اور ہمارے گھر کے کسی شخص سے متعلق ہے۔‘‘ ( مکتوب بنام نواب محمد علی خان صاحبؓ۔مکتوباتِ احمد جلد ۲ صفحہ ۳۱۸ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۰؍ نومبر۱۹۰۷ء ه’’ ایک وَبا پڑے گی۔(فرمایا) معلوم نہیں یہ کس قسم کی وَبا ہوگی۔‘‘ ( بدر جلد۶ نمبر ۴۶مورخہ ۱۰؍ نومبر۱۹۰۷ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۴۰ مورخہ ۱۰؍ نومبر۱۹۰۷ء صفحہ ۲) نومبر۱۹۰۷ء ’’ ۱۔قَذَ فَ فِیْ قُلُوْ بِـھِمُ الرُّعْبَ۔۲۔وَعْدٌ غَیْرُ مَکْذُ وْبٍ۔‘‘۱؎ ( بدر جلد۶ نمبر ۴۷مورخہ ۲۱؍ نومبر۱۹۰۷ء صفحہ۴۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۴۲ مورخہ ۲۴؍ نومبر۱۹۰۷ء صفحہ ۳) نومبر۱۹۰۷ء ’’ ۱۔اِنِّیْ۲؎ مَعَکَ ذَکَرْتُکَ فَاذْکُرْنِیْ۔۲۔وَسِّعْ مَکَانَکَ۔۳۔حَانَ اَنْ تُعَانَ وَ تُرْفَعَ بقیہ حاشیہ۔’’ہے تو سچا چاہے مانو یا نہ مانو‘‘۔یعنی اس سے فائدہ اُٹھانا نہ اُٹھانا تمہارا کام ہے ہم نے چیز مہیا کردی ہے…اِس الہام میں اللہ تعالیٰ نے علم النفس کا ایک عجیب نکتہ بیان فرمایا ہے یعنی عید کرنا یا نہ کرنا انسان کے اندر کے احساسات پر منحصر ہے‘ صرف سامان کا موجود ہونا عید منانے کے لئے کافی نہیں ہوتا بلکہ ان کا اختیار کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔‘‘ ( الفضل مورخہ ۱۹؍ مارچ۱۹۲۹ء صفحہ۵۔خطبہ عید الفطر فرمودہ ۱۳؍ مارچ۱۹۲۹ء) ۱ (ترجمہ) ۱۔خدا تعالیٰ نے اُن کے دلوں میں رُعب ڈال دیا۔۲۔یہ ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔یعنی ضرور پورا ہو کر رہے گا۔(بدر مورخہ ۲۱؍نومبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۲ (ترجمہ) ۱۔مَیں تیرے ساتھ ہوں۔مَیں نے تجھے یاد کیا ہے سو تو مجھے بھی یاد کر۔۲۔اور اپنے مکان کو وسیع کردے۔۳۔وہ وقت آتا ہے کہ تو مدد دیا جاوے گا اور لوگوں میں تیرا نام عزت اور بلندی سے