تذکرہ — Page 719
الْبَاطِلُ۔۶۔مَوْتٌ قَرِیْبٌ۔۷۔اِنَّ اللّٰہَ یَـحْمِلُ کُلَّ حِـمْلٍ۔۸۔مَنْ خَدَ مَکَ خَدَ مَ النَّاسَ کُلَّھُمْ۔وَ مَنْ اٰذَاکَ اٰذَی النَّاسَ جَـمِیْعًا۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۶) ۷؍ نومبر۱۹۰۷ء ’’ ۱۔اَ لَمْ۱؎ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِـاَصْـحَابِ الْفِیْلِ۔۲۔آمدنِ عید مبارک بادت۲؎۔۳۔عید تو ہے چاہے کرو یا نہ کرو۔‘‘۳؎ بقیہ ترجمہ۔بھاگ گیا۔یعنی باطل بھاگ جائے گا۔۶۔ایک شخص کی موت قریب ہے۔۷۔خدا ہر ایک بوجھ کو آپ اُٹھائے گا(اس کے معنی اَب تک معلوم نہیں ہوئے۔آئندہ خدا قادر ہے کہ تفصیل ظاہر کردے) ۸۔جو شخص تیری خدمت کرتا ہے اس نے ایسا کام کیا کہ گویا سارے جہان کی خدمت کی اور جو شخص تجھے دُکھ دیتا ہے اُس نے ایسا کام کیا کہ گویا ساری دُنیا کو دکھ دیا۔(بدر مورخہ ۱۰؍نومبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۲) ۱ (ترجمہ) ۱۔تو دیکھے گا کہ تیرا رَبّ اُن مخالفوں سے کیا کرے گا جو تیرے معدوم کرنے کے لئے حملے کرتے ہیں۔(بدر مورخہ ۱۰؍نومبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۲) ۲ (ترجمہ از مرتّب) عید کا آنا تیرے لئے مبارک ہو۔۳ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایک خطبہ عید الفطر کے دَوران میں اِس الہام کی تفسیر و تشریح فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا۔’’ایک تو اِس الہام کے وقتی معنی تھے کہ اُس دن شبہ تھا آیا عید ہے یا نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کو دُور فرما دیا اور بتایا ’’عید تو ہے چاہے کرو یا نہ کرو۔‘‘ لیکن میرے نزدیک اِس وحی کا صرف یہی مفہوم نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’چاہے کرو یا نہ کرو۔‘‘ اور جس کام کے متعلق خود اللہ تعالیٰ فرمائے ’’چاہے کرو یا نہ کرو‘‘ صرف اس کے لئے خصوصیت سے الہام کرنا کوئی وجہ نہیں رکھتا۔میرے نزدیک علاوہ اِس مفہوم کے ایک اَور لطیف نکتہ بھی اِس میں بیان فرمایا گیا ہے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کی طرف اشارہ ہے۔انبیاء کی بعثت بھی ایک عید ہوا کرتی ہے۔یعنی ان کی بعثت سے اللہ تعالیٰ کے فضل پھر دنیا پر نازل ہوتے ہیں اور دنیا میں ترقیات کا بیج ان کے ذریعہ بویا جاتا ہے۔وہ ایک ایسا بیج ہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ ترقی کرکے ایک اِتنا بڑا درخت بن جاتا ہے جس کے پھلوں اور سایہ سے اہل ِ دنیا مستفید ہوتے ہیں لیکن اکثر لوگوں کو وہ عید نظر نہیں آیا کرتی۔لوگ عام طور پر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں…یہ فقرہ کہ ’’عید تو ہے چاہے کرو یا نہ کرو‘‘ اس میں اس عید کی طرف اشارہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کی عید ہے، اور ا س کا یہ مطلب نہیں کہ چاہے یہ کرو یا نہ کرو ایک ہی بات ہے بلکہ یہ اسی طرح کہا گیا ہے جیسے کہتے ہیں