تذکرہ — Page 694
۲۸؍ مئی۱۹۰۷ء ’’ شریف احمد کی نسبت اُس کی بیماری کی حالت میں الہامات ہوئے۔۱۔عَـمَّرَہُ۱؎ اللّٰہُ عَلٰی خِلَافِ التَّوَقُّعِ۔۲۔اَمَّرَہُ اللّٰہُ عَلٰی خِلَافِ التَّوَقُّعِ۔۳۔اَءَنْتِ لَاتَعْرِفِیْنَ الْقَدِیْرَ۔۴۔مُرَادُکَ حَاصِلٌ۔۵۔اَللّٰہُ خَیْرٌ حَافِظًا وَّ ھُوَ اَرْحَـمُ الرَّاحِـمِیْنَ۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر۲۲ مورخہ۳۰ ؍ مئی ۱۹۰۷ء صفحہ ۴۔الحکم جلد ۱۱ نمبر۱۹مورخہ ۳۱ ؍ مئی۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۱ (ترجمہ) ۱۔اس کو یعنی شریف احمد کو خدا تعالیٰ امید سے بڑھ کر عمر دے گا۔(یہ الہام اس کی خطرناک بیماری کی حالت میں ہوا۔) ۲۔اس کو یعنی شریف احمد کو خدا تعالیٰ امید سے بڑھ کر امیر کرے گا۔۳۔کیا تُو قادر کو نہیں پہچانتی۔(یہ اس کی والدہ کی نسبت الہام ہے)۔۴۔تیری مراد حاصل ہوجائے گی۔۵۔خدا سب سے بہتر حفاظت کرنے والا ہے اور وہ اَرحم الراحمین ہے۔(بدر مورخہ ۳۰؍مئی ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) (نوٹ از سید عبد الحی) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات عَـمَّرَہُ اللّٰہُ عَلٰی خِلَافِ التَّوَقُّعِ اور اَمَّرَہُ اللّٰہُ عَلٰی خِلَافِ التَّوَقُّعِ کی تشریح میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۲؍ دسمبر ۱۹۹۷ء میں فرمایا۔’’آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کچھ الہامات تھے جو حضرت مرزا شریف احمد صاحب ؓ پر چسپاں کئے گئے اور مَیں وہ فرد واحد ہوں یا اور بھی شاید ہوں، جو شروع ہی سے یہ یقین رکھتا تھا کہ یہ الہامات اصل میں آپ کے صاحبزادہ حضرت مرزا منصور احمد صاحب سے متعلق ہیں۔یہ امر واقعہ ہے کہ بعض پیشگوئیاں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایسا واقعہ ہوچکا ہے، ایک شخص کے متعلق کی جاتی ہیں لیکن بیٹا مراد ہوتا ہے۔وہ الہامات جیسا کہ میں اب آپ کے سامنے کھول کر بیان کروں گا بلاشبہ ایک ذرّہ بھی شک نہیں حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ؓ کے بیٹے کی صورت میں پورے ہونے تھے اور آپ ہی پر ان کا اطلاق ہوتا ہے۔وہ الہامات سنیے۔شریف احمد کی نسبت اس کی بیماری کی حالت میں (یہ ۱۹۰۷ء کا واقعہ ہے) الہامات ہوئے ’’عَـمَّرَہُ اللّٰہُ عَلٰی خِلَافِ التَّوَقُّعِ‘‘ اللہ نے اس کو لمبی عمر دی خلاف توقع۔پھر فرمایا۔’’ اَمَّرَہُ اللّٰہُ عَلٰی خِلَافِ التَّوَقُّعِ‘‘ اللہ نے اسے صاحب امر بنایا یعنی امیر اور اس کا یہ امیر بننا خلاف توقع تھا۔یعنی توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ یہ شخص اتنے لمبے عرصے تک امیر بنایا جائے۔’’اَمَّرَہُ اللّٰہُ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اسے امیر بنایا جائے گا۔یعنی صاحب امر بنائے گا اور ایک دوسرے الہام سے بعینہٖ یہی بات ثابت ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ’’وہ بادشاہ آیا‘‘ اور اس کی تشریح میں (حضرت مسیح موعود ؑ)فرماتے ہیں کہ