تذکرہ — Page 695
۱۹۰۷ء چند دن ہوئے مجھ کو الہام ہوا تھا کہ ’’لاہور سے ایک افسوسناک خبر آئی‘‘ بقیہ حاشیہ۔قاضی کے متعلق یہ الہام ہوا ہے وہ قاضی یعنی صاحب امر بنایا جائے گا۔…حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی عمر تو لمبی نہیں تھی۔اپنے بھائیوں سے چھوٹی عمر میں فوت ہوگئے اور خلاف توقع لمبی عمر کہنا یہ ایک قسم کا خواہش کا اظہار تو ہے لیکن واقعات کا اظہار نہیں اور آپ کے سپرد امارت کبھی نہیں کی گئی۔مجھے نہیں یا دشاید ہی کبھی آپ کو امیر بنایا گیا ہو ورنہ آپ امیر نہیں بنائے جاتے تھے۔یہ وجہ تھی کہ ہمیشہ ان دونوں الہامات کو حضرت مرزا منصور احمد صاحب کے متعلق سمجھتا تھا اور آپ کی زندگی اس کی گواہ ہے، اس کثرت سے آپ کو شدید دل کے حملے ہوئے ہیں کہ ہر حملے پر ڈاکٹر کہتے تھے کہ اب یہ ہاتھ سے گئے اور پھر اللہ تعالیٰ خلاف توقع آپ کو ٹھیک کردیتا تھا اور سب ڈاکٹر حیرت سے دیکھتے تھے کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے… اس لئے ان کے متعلق یہ الہامات لازماً پورے اُترتے ہیں کہ ’’ عَـمَّرَہُ اللّٰہُ عَلٰی خِلَافِ التَّوَقُّعِ‘‘ بغیر توقع کے لمبی عمر اور بغیر توقع کے بارہا عمر پانا یہ آپ کی ذات میں دونوں باتیں بعینہٖ صادق آتی ہیں۔پھر ’’ اَمَّرَہُ اللّٰہُ عَلٰی خِلَافِ التَّوَقُّعِ ‘‘ یعنی ان کو امارت بھی ایسی دی جائے گی کہ اس کے متعلق توقع نہیں کی جاسکتی۔مَیں نے حساب لگایا ان کی امارت کا تو آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کے زمانے میں ان کو امیر بنانا شروع کیا گیا ہے اور اس سے پہلے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؒ کی باون سالہ خلافت میں اتنا عرصہ کبھی کسی کو امیر نہیں بنایا گیا جتنا ان کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ اور میرے دور میں امیر بنایا گیا۔پینتالیس بار آپ امیر مقامی مقرر ہوئے ہیں اور اس ہجرت کے دور میں تقریباً چودہ سال مسلسل امیر مقامی بنے رہے ہیں۔یہ ہے خلاف توقع۔سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ خلیفہ کی موجودگی میں کوئی شخص اتنا لمبا عرصہ امیر بنارہے۔وہ امارت مقامی جو خود خلیفہ کے اپنے قبضے میں ہوا کرتی ہے اور اس کی وہاں موجودگی میں صدر عمومی ہے جو عمومی انتظام چلاتا ہے۔مگر خلیفہ کی موجودگی میں امیر مقامی وہی ہوتا ہے۔پس آپ عملاً میری جگہ بیٹھ گئے یعنی جس کرسی پر مَیں بیٹھا کرتا تھا اس پر میرے کہنے کے مطابق آپ براجمان ہوئے اور آپ نے تمام امور کو نہایت بہادری سے انجام دیا۔’’وہ بادشاہ آیا‘‘ کے الہام کے متعلق (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) فرماتے ہیں۔فرمایا! دوسرے نے کہا ابھی تو اس نے قاضی بننا ہے۔یعنی اس الہام کے ساتھ یہ آواز بھی آئی۔قاضی حَکَم کو بھی کہتے ہیں۔قاضی وہ ہے جو تائید حق کرے اور باطل کو رد کردے۔یہ خوبی بھی حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب میں غیر معمولی طور پر پائی جاتی تھی۔باطل کو رد کرنے کے معاملے میں اتنا بہادر انسان میں نے اور شاذ ہی دیکھا ہو۔یہ صورت حال ایک اور الہام کو بھی یاد کرارہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مرزا شریف احمد صاحب کو مخاطب