تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 668 of 1089

تذکرہ — Page 668

اور پھر الہام ہوا۔۲۔ہے تو بھاری مگر خدائی امتحان کو قبول کر۔اور پھر الہام ہوا۔۳۔یَا اَ یُّـھَا النَّاسُ اعْبُدُ وْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ۔۱؎ یعنی اے لوگو اپنے اس خدا کو اپنا رازق سمجھو جس نے تمہیں پیدا کیا۔اس جگہ عبادت سے مراد رازق سمجھنا ہے۔اور پھر الہام ہوا۔۴۔یَا اَ یُّـھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ۔یعنی اے لوگو تم اپنے اس خدا سے ڈرو جس نے تمہیں پیدا کیا۔یعنی اس کے احکام سے باہر مت ہو اور اس کی رضا کے موافق زندگی کرو۔اور پھر میری طرف سے بطور حکایت الہام ہوا۔۵۔اے میرے اہلِ بَیت خدا تمہیں شر سے محفوظ رکھے۔اور پھر مجھے مخاطب کرکے الہام ہوا۔۶۔اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَـا مِنْکَ۔اَنْتَ الَّذِیْ طَارَ اِلَیَّ رُوْحُہٗ۔تُو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے۔تو وہ ہے جس کی رُوح نے میری طرف پرواز کیا۔۷۔اور پھر ایک الہام میں خدا نے میرا نام سعد اللہ خان مبارک رکھا۔‘‘ (کاپی الہامات۲؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۱۹، ۱۱۸، ۱۱۷، ۱۱۶) ۱ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۷؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۰؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں اس الہام کے بارہ میں یہ تحریر ہے۔’’اس میں تفہیم یہ ہوئی کہ اے اہل بیت! کسی دوسرے کو تکیہ گاہ مت بنا۔وہی خدا تیرا مکفّل اور رازق ہے جس نے تجھے پیدا کیا۔‘‘ ۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۷؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۰؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں تمام الہامات یوں درج ہیں۔’’ ۱۔اِنَّـمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْ ھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا۔تفہیم یہ ہوئی ہے کہ اے اہلِ خانہ خدا تمہارا امتحان کرنا چاہتا ہے تا معلوم ہو کہ تم اس کے ارادوں پر ایمان رکھتے ہو یا نہیں اور تا وہ اے اہلِ بَیت تمہیں پاک کرے جیسا کہ حق ہے پاک کرنے کا اور پھر انہیں کی طرف اشارہ کرکے الہام ہوا۔۲۔ہے تو بھاری مگر خدائی امتحان کو قبول کر۔