تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 667 of 1089

تذکرہ — Page 667

۲۵؍ فروری۱۹۰۷ء ’’ ۱۔مِنَ النَّاسِ وَ الْعَامَّۃِ۔یعنی مِنْ خَوَاصِّ النَّاسِ وَ الْعَآمَّۃِ۔یہ طاعون کی طرف اشارہ ہے کہ اِس مرتبہ طاعون کے حملہ سے کچھ خاص لوگ بھی مَریں گے جو معزز ہوتے ہیں یا سفید پوش ہوتے ہیں اور عام لوگوں میں بھی مَری پڑے گی۔۲۔لَوْ لَا الْاِکْرَامُ لَھَلَکَ الْمُقَامُ۔۱؎ اِ س الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیان میں سے بھی کچھ لوگ طاعون سے مَریں گے اور یہ مرنا الہام اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ کے مخالف نہیں کیونکہ اٰوٰی سے مراد الہامِ الٰہی میں یہ ہے کہ آخر قادیان کے لوگ بچائے جائیں گے۔بکُلّی استیصال نہیں ہوگا۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر۹مورخہ۲۸ ؍ فروری ۱۹۰۷ءصفحہ ۳) ۲۶؍ فروری۱۹۰۷ء ’’ تُحْفَۃ ُ الْمُلُوْکِ‘‘ اِس کے معنی ابھی نہیں کھلے۔بہرحال ملوک سے اس کو کچھ نسبت ہے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر۹مورخہ۲۸ ؍ فروری۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۲۸؍ فروری۱۹۰۷ء ’’۱۔سخت زلزلہ آیا اور آج بارش بھی ہوگی۔۲؎ ۲۔خوش آمدی۔نیک آمدی۔۳؎‘‘ (کاپی الہامات۴؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۲۲) ۲؍ مارچ۱۹۰۷ء ’’ دوئم مارچ ۱۹۰۷ء روز شنبہ ۱۔اِنَّـمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْ ھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا۔۵؎ تفہیم یہ ہوئی کہ خدا تمہارا امتحان کرنا چاہتا ہے تا معلوم ہو کہ تم اس کے ارادوں پر ایمان رکھتے ہو یا نہیں اور تا وہ اے اہل بیت تمہیں پاک کرے جیسا کہ حق ہے پاک کرنے کا۔۱ (ترجمہ) ۲۔اگر تیری عزت کا پاس نہ ہوتا تو مَیں تمام قادیان کو ہلاک کردیتا۔(بدر مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۲ (نوٹ) چنانچہ اُسی دن بارش ہوگئی اور ۲؍ مارچ کے بعد کی رات کو سخت زلزلہ آیا۔(بدر مورخہ ۷؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۔الحکم مورخہ ۱۰ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱) ۳ (ترجمہ از مرتّب) ۲۔تم خوش آئے ہو اور اچھے آئے ہو۔۴ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۷؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۔بدر مورخہ ۱۴؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۰؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں بھی یہ الہامات درج ہیں۔۵ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔اے اہل بیت! خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی دور کرے اور تا تمہیں پاک کرے جیسا کہ پاک کرنے کا حق ہے۔