تذکرہ — Page 669
۳؍ مارچ۱۹۰۷ء الہام۔’’مباش در پئے آزار ھر چـــہ خواہی کن کہ در طریقت ما غیر زیں گنا ہے نیست‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۱۵) ۶؍ مارچ۱۹۰۷ء ’’ ۱۔رَ بَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَھُمْ۔۲؎ ۲۔اُن کی لاش کفن میں لپیٹ کر لائے ہیں۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۱۵) ۷؍ مارچ۱۹۰۷ء (الف) ’’ ۱۔رَبِّ افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَھُمْ۔۲۔أَعَــجِبْتُمْ اَنْ تَـمُوْتُوْا۔۳؎ ۳۔ان کی بقیہ حاشیہ۔اور پھر الہام ہوا۔۳۔یٰٓـاَیُّـھَاالنَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ۔اے لوگو! تم اپنے ربّ کی پرستش کرو۔وہ خدا جس نے تمہیں پیدا کیا۔اِس میں تفہیم یہ ہوئی کہ اے اہلِ بَیت کسی دوسرے کو تکیہ گاہ مت بناؤ۔وہی خدا تیرا متکفّل اور رازق ہے جس نے تجھے پیدا کیا۔اور پھر الہام ہوا۔۴۔یٰٓـاَیُّـھَاالنَّاسُ اتَّقُوْا رَ بَّکُمُ اللّٰہَ خَلَقَکُمْ۔ترجمہ یہ ہے کہ اے اہلِ بَیت خدا سے ڈرو اور اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہ کرو اور نہ کوئی بات منہ سے نکالو۔وہی خدا ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔اور پھر میری طرف سے بطور حکایت الہام ہوا۔۵۔اے میرے اہلِ بَیت ! خدا تمہیں شر سے محفوظ رکھے۔اور پھر مجھے مخاطب کرکے الہام ہوا۔۶۔اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَـا مِنْکَ۔اَنْتَ الَّذِیْ طَارَ اِلَیَّ رُوْحُہٗ۔یعنی تُو مجھ سے ظاہر ہوا اور مَیں اس زمانہ میں تجھ سے ظاہر ہونے والا ہوں۔تُو وہ ہے جس کی رُوح نے میری طرف پرواز کیا۔‘‘ ۳ (ترجمہ از ناشر) جو چاہے کر مگر تو کسی کے در پئے آزار نہ ہو کہ ہماری طریقت میں اس سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں ہے۔۱ (ترجمہ ) ۱۔اے خدا ! ہم میں اور ہمارے دشمنوں میں فیصلہ کر۔(بدر مورخہ ۱۴؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۲ (ترجمہ) ۱۔اے خدا ! ہم میں اور ہمارے دشمنوں میں فیصلہ کر۔۲۔کیا تم تعجب کرتے ہو کہ تم موت کا شکار ہوجاؤ۔(بدر مورخہ ۱۴؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳)