تذکرہ — Page 620
طِبْتُمْ۔نَـحْمَدُ۔کَ وَ نُصَلِّیْ۔صَلوٰۃُ الْعَرْشِ اِلَی الْفَرْشِ۔نَـزَلْتُ لَکَ تم پر سلام تم پاک ہو۔ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔عر ش سے فرش تک تیرے پر درود ہے۔مَیں تیرے لئے وَ لَکَ نُرِیْٓ اٰیَـاتٍ۔اَ۔لْاَمْرَاضُ تُشَاعُ۔وَالنُّفُوْسُ تُضَاعُ۔وَمَا کَانَ اللّٰہُ اُترا ہوں اور تیرے لئے اپنے نشان دکھلاؤں گا۔ملک میں بیماریاں پھیلیں گی اور بہت جانیں ضائع ہوں گی اور خدا ایسا نہیں ہے لِیُغَیِّرَ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ۔اِنَّہٗٓ اٰوَی۱؎ الْقَرْیَۃَ۔جو اپنی تقدیر کو بدل دے جو ایک قوم پر نازل کی جب تک وہ قوم اپنے دلوں کے خیالات کو نہ بدل ڈالیں۔وہ اس قادیان کو کسی قدر بلا کے بعد لَوْلَا الْاِکْرَامُ لَھَلَکَ الْمُقَامُ۔اِنِّیْٓ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔مَا کَانَ اللّٰہُ اپنی پناہ میں لے گا۔اگر مجھے تیری عزت کا پاس نہ ہوتا تو اِس تمام گاؤں کو مَیں ہلاک کردیتا۔مَیں ہر ایک کو جو اِس گھر کی چاردیوار کے اندر ہے لِیُعَذِّ بَـھُمْ وَ اَنْتَ فِیْـھِمْ۔امن است در مکانِ محبّت سرائے ما۔بھونچال بچالوں گا۔کوئی ان میں سے طاعون یا بھونچال سے نہیں مرے گا۔خدا ایسا نہیں ہے کہ جن میں تُو ہے اُن کو عذاب کرے۔ہماری محبّت کا گھر امن کا گھر ہے۔آیا اور شدت سے آیا زمین تہ و بالا کردی۔یَـوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ۲؎۔ایک زلزلہ آئے گا اور بڑی سختی سے آئے گا اور زمین کو زیر و زبر کردے گا۔اُس دن آسمان سے ایک کُھلا کُھلادُھواں نازل ہوگا وَ تَرَی الْاَرْضَ یَـوْمَئِذٍ خَامِدَۃً مُّصْفَرَّۃً۔اُکْرِمُکَ بَعْدَ تَـوْھِیْنِکَ۔۳؎ اور اُس دن زمین زرد پڑجائے گی یعنی سخت قحط کے آثار ظاہر ہوں گے۔مَیں بعد اس کے جو مخالف تیری توہین کریں تجھے عزت دوں گا اور تیرا اکرام ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ اٰوٰی کا لفظ عرب کی زبان میں اس موقعہ پر استعمال پاتا ہے جبکہ کسی قدر تکلیف کے بعد کسی شخص کو اپنی پناہ میں لیا جائے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَ لَمْ یَجِدْکَ یَتِیْـمًا فَاٰوٰی اور جیسا کہ فرماتا ہے اٰوَیْنٰـھُمَا اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ۔منہ ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۷ حاشیہ) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یعنی اُس زلزلہ کے لئے جو قیامت کا نمونہ ہوگا یہ علامتیں ہیں کہ کچھ دن پہلے اُس سے قحط پڑے گا اور زمین خشک رہ جائے گی۔نہ معلوم کہ معاً اُس کے بعد یا کچھ دیر کے بعد زلزلہ آئے گا۔منہ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۸ حاشیہ) ۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یعنی وہ بڑے نشان جو دُنیا میں ظاہر ہوں گے ضرور ہے جو پہلے اُن سے توہین کی جائے اور طرح طرح کی بُری باتیں کہی جائیں اور الزام لگائے جائیں تب بعد اس کے آسمان سے خوفناک نشان ظاہر ہوں گے۔یہی سُنّت اللہ ہے کہ پہلی نوبت مُنکروں کی ہوتی ہے اور دوسری خدا کی۔منہ ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۸ حاشیہ)