تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 619 of 1089

تذکرہ — Page 619

یُرِیْکُمُ اللّٰہُ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ۔لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ۔لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ۔جاتا۔مَیں تجھے قیامت والا زلزلہ دکھاؤں گا۔خدا تجھے قیامت والا زلزلہ دکھائے گا۔اُس دن کہا جائے گا آج کس کا ملک ہے۔کیا اُس خدا کا ملک چمک دکھلاؤں گا تم کو اِس نشان کی پنج بار۱؎۔اگر چاہوں تو اس دن خاتمہ۔اِنِّیْ اُحَافِظُ نہیں جو سب پر غالب ہے۔اور مَیں اِس زلزلہ کے نشان کی پنج مرتبہ تم کو چمک دکھلاؤں گا۔اگر چاہوں تو اُس دن دُنیا کا خاتمہ کردوں۔مَیں ہر ایک کو کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔اُرِیْکَ مَا یُرْضِیْکَ۔رفیقوں کو کہہ دو کہ عجائب در عجائب کام جو تیرے گھر میں ہوگا اس کی حفاظت کروں گا۔اور مَیں تجھے وہ کرشمۂ قدرت دکھلاؤں گا جس سے تُو خوش ہوجائے گا۔رفیقوں کو کہہ دو کہ عجائب در عجائب کام دکھلانے کا وقت آگیا ہے۔اِنَّـا فَتَحْنَالَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّ۔مَ دکھلانے کا وقت آگیا ہے۔مَیں ایک عظیم فتح تجھ کو عطا کروں گا جو کھلی کھلی فتح ہوگی تاکہ تیرا خدا تیرے تمام مِنْ ذَنْبِکَ وَ مَا تَـاَخَّرَ۔۲؎ اِنِّیْ اَنَـا التَّوَّابُ۔مَنْ جَآءَکَ جَآءَنِیْ۔سَلَامٌ عَلَیْکُمْ گناہ بخش دے جو پہلے ہیں اور پچھلے ہیں۔مَیں توبہ قبول کرنے والا ہوں۔جو شخص تیرے پاس آئے گا وہ گویا میرے پاس آئے گا ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اِس وحیِ الٰہی سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ زلزلے آئیں گے اور پہلے چار زلزلے کسی قدر ہلکے اور خفیف ہوں گے اور دُنیا اُن کو معمولی سمجھے گی اور پھر پانچواں زلزلہ قیامت کا نمونہ ہوگاکہ لوگوں کو سَودائی اور دیوانہ کردے گا یہاں تک کہ وہ تمنّا کریں گے کہ وہ اس دن سے پہلے مر جاتے۔اب یاد رہے کہ اس وحیِ الٰہی کے بعد اس وقت تک جو ۲۲ ؍ جولائی ۱۹۰۶ء ہے اِس ملک میں تین زلزلے آچکے ہیں یعنی ۲۸؍ فروری ۱۹۰۶ء اور ۲۰؍ مئی ۱۹۰۶ء اور ۲۱؍ جولائی ۱۹۰۶ء۔مگر غالباً خدا کے نزدیک یہ زلزلوں میں داخل نہیں ہیں کیونکہ بہت ہی خفیف ہیں۔شاید چار زلزلے پہلے ایسے ہوں گے جیسا کہ ۴؍ اپریل ۱۹۰۵ء کا زلزلہ تھا اور پانچواں قیامت کا نمونہ ہوگا۔وَاللّٰہُ اَعْلَمُ۔منہ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۶ حاشیہ) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ظالم انسان کا قاعدہ ہے کہ وہ خدا کے رسولوں اور نبیوں پر ہزار ہا نکتہ چینیاں کرتا ہے اور طرح طرح کے عیب اُن میں نکالتا ہے۔گویا دُنیا کے تمام عیبوں اور خرابیوں اور جرائم اور معاصی اور خیانتوں کا وہی مجموعہ ہیں۔اب ان وساوس کا کہاں تک جواب دیا جائے جو نفس کی شرارت کے ساتھ مخلوط ہیں۔اِس لئے یہ سُنّت اللہ ہے کہ آخر اِن تمام جھگڑوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور کوئی ایسا عظیم الشّان نشان ظاہر کرتا ہے جس سے اُس نبی کی بریّت ظاہرہوتی ہے۔پس لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ کے یہی معنے ہیں۔منہ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۷ حاشیہ)