تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 621 of 1089

تذکرہ — Page 621

یُرِیْدُ۔وْنَ اَنْ لَّا یَتِمَّ اَمْرُکَ۔وَ اللّٰہُ یَـاْبٰی اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ اَمْرَکَ۔اِنِّیْٓ کروں گا۔وہ ارادہ کریں گے جو تیر اکام ناتمام رہے اور خدا نہیں چاہتا جو تجھے چھوڑدے جب تک تیرے تمام کام پورے نہ کرے۔مَیں اَنَـا الرَّحْـمٰنُ۔سَاَجْعَلُ لَکَ سُھُوْلَۃً فِیْ کُلِّ اَمْرٍ۔اُرِیْکَ بَـرَکَاتٍ مِّنْ کُلِّ رحمان ہوں۔ہر ایک اَمر میں تجھے سہولت دوں گا۔ہر ایک طرف سے تجھے برکتیں طَرَفٍ۔نَـزَلَتِ الرَّحْـمَۃُ عَلٰی ثَلَاثٍ اَلْعَیْنِ وَ عَلَی الْاُخْرَیَیْنِ۔تُرَدُّ دکھلاؤں گا۔میری رحمت تیرے تین عضو پر نازل ہے ایک آنکھیں اور دو اَور عضو ہیں یعنی اُن کو سلامت رکھوں گا۔اِلَیْکَ اَنْـوَارُ الشَّبَابِ۔تَـرٰی نَسْلًا بَعِیْدًا۔۱؎ اِنَّـا نُبَشِّـرُکَ بغُلَامٍ مَّظْھَرِ الْـحَقِّ اور جوانی کے نور تیری طرف عَود کریں گے۔اور تُو اپنی ایک دُو رکی نسل کو دیکھ لے گا۔ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جس کے ساتھ حق وَالْعُلٰی کَاَنَّ اللّٰہَ نَـزَلَ مِنَ السَّمَآءِ۔اِنَّـا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ نَّافِلَۃً لَّکَ۔کا ظہور ہوگا۔گویا آسمان سے خدا اُترے گا۔ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جو تیرا پوتا ہوگا۔سَـبَّحَکَ اللّٰہُ وَ رَافَاکَ۔وَ عَلَّمَکَ مَالَمْ تَعْلَمْ۔اِنَّہٗ کَرِیْمٌ تَـمَشّٰی خدا نے ہر ایک عیب سے تجھے پاک کیا اور تجھ سے موافقت کی۔اور وہ معارف تجھے سکھلائے جن کا تجھے علم نہ تھا۔وہ کریم ہے وہ تیرے اَمَامَکَ وَ عَادٰی لَکَ مَنْ عَادٰی۔وَقَالُوْا اِنْ ھٰذَا اِلَّا اخْتِلَاقٌ۔اَ لَمْ آگے آگے چلا اور تیرے دشمنوں کا وہ دشمن ہوا۔اور کہیں گے کہ یہ تو ایک بناوٹ ہے۔اے مُعترض کیا تو تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍقَدِیْرٌ۔یُلْقِی الرُّوْ۔حَ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ نہیں جانتا کہ خدا ہر ایک بات پر قادر ہے۔جس پر اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اپنی رُوح ڈالتا ہے یعنی منصبِ نبوت مِنْ عِبَادِہٖ۔کُلُّ بَـرَکَۃٍ مِّنْ مُّـحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَکَ اُس کو بخشتا ہے۔اور یہ تو تمام برکت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔پس بہت برکتوں والا ہے جس نے اس بندہ کو ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ خدا تعالیٰ کی وحی یعنی تَـرٰی نَسْلًا بَعِیْدًا قریباً تیس سال کی ہے۔منہ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۸ حاشیہ)