تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 589 of 1089

تذکرہ — Page 589

اِن الہامات کا باعث یہ ہے کہ عرصہ تین چار ماہ سے میری طبیعت نہایت ضعیف ہوگئی ہے۔بجُز دو وقت ظہر اور عصر کی نماز کے لئے بھی (مسجد میں ) نہیں جاسکتااور اکثر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں اور اگر ایک سطر بھی کچھ لکھوں یا فکر کروں تو خطرناک دَورانِ سر شروع ہوجاتا ہے اور دل ڈوبنے لگتا ہے۔جسم بالکل بیکار ہورہا ہے اور جسمانی قویٰ ایسے مضمحل ہوگئے ہیں کہ خطرناک حالت ہے۔گویا مسلوب القویٰ ہوں اور آخری وقت ہے۔ایسا ہی میری بیوی دائم المرض ہے۔امراضِ رحم و جگر دامنگیر ہیں۔پس مَیں نے دُعا کی تھی کہ خدا تعالیٰ مجھے وہ پہلی قوت جوانی کے عالَم کی عطا کرے تا مَیں کچھ خدمت ِ دین کرسکوں اور اپنی بیوی کی صحت کے لئے بھی دُعا کی تھی۔اُس دُعا پر یہ الہام ہوئے ہیں جو اُوپر ذکر کئے گئے۔خدا تعالیٰ ان کے بہتر معنے جانتا ہے۔صرف اِس قدر معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں صحت عطا فرمائے گا اور مجھے وہ قوتیں عطا کرے گا جن سے مَیں خدمت ِ دین کرسکوں۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ اور اِس میں یہ بھی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ میری بیوی کو بھی صحت اور تندرستی عطا کرے گا۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر۲۱ مورخہ۲۴ ؍ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر۱۸ مورخہ۲۴؍ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ۱) (ب) ’’مجھے دماغی کمزوری اور دَورانِ سر کی وجہ سے بہت سی ناطاقتی ہوگئی تھی یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ اَب میری حالت بالکل تالیف تصنیف کے لائق نہیں رہی اور ایسی کمزوری تھی کہ گویا بدن میں رُوح نہیں تھی۔اِس حالت میں مجھے الہام ہوا۔تُـرَدُّ عَلَیْکَ اَ نْوَارُ الشَّبَابِ یعنی جوانی کے نور تیری طرف واپس کئے۔بعد اس کے چند روز میں ہی مجھے محسوس ہوا کہ میری گمشدہ قوتیں پھر واپس آتی جاتی ہیں اور تھوڑے دنوں کے بعدمجھ میں اِس قدر طاقت ہوگئی کہ مَیں ہر روز دو ۲ دو ۲ جُز نَو تالیف کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھ سکتا ہوں اور نہ صرف لکھنا بلکہ سوچنا اور فکر کرنا جو نئی تالیف کے لئے ضروری ہے پورے طور پر میسر آگیا۔ہاں دو مرض میرے لاحقِ حال ہیں ایک بدن کے اُوپر کے حصّہ میں اور دوسری بدن کے نیچے کے حصّہ میں۔اُوپر کے حصّہ میں دَورانِ سر ہے اور نیچے کے حصّہ میں کثرتِ پیشاب ہے اور یہ دونوں مرضیں اُسی زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے مَیں نے اپنا دعویٰ مامور مِن اللہ ہونے کا شائع کیا ہے۔مَیں نے ان کے لئے دعائیں بھی کیں مگر منع میں جواب پایااور میرے دل میں القا کیا گیا کہ ابتداء سے مسیح موعود کے لئے یہ نشان مقرر ہے کہ وہ دو زرد چادروں کے ساتھ دو۲ فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اُترے گا۔سو یہ