تذکرہ — Page 590
وہی دو زرد چادریں ہیں جو میری جسمانی حالت کے ساتھ شامل کی گئیں۔انبیاء علیہم السلام کے اتفاق سے زرد چادر کی تعبیر بیماری ہے اور دو زرد چادریں دو بیماریاں ہیں جو دو حصّہ بدن پر مشتمل ہیں اور میرے پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی کھولا گیا ہے کہ دو زرد چادروں سے مراد دو بیماریاں ہیں اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ پورا ہوتا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۱۹، ۳۲۰) ۲۵؍ مئی۱۹۰۶ء ’’ھَلْ اَتَـاکَ حَدِیْثُ الزَّلْزَلَۃِ۔بَلْ یَاْتِیْـھِمْ بَغْتَۃً۔۱؎ اگر چاہوں تو اُس دن خاتمہ اِس کے بعد ایک علیحدہ الہام ہوا۔دو چار ماہ۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر۲۲ مورخہ۳۱ ؍ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر۱۹ مورخہ۳۱؍ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ۱) ۲۷؍ مئی۱۹۰۶ء (الف) ’’ اُرِیْـحُکَ وَلَا اُجِیْحُکَ وَاُخْرِجُ مِنْکَ قَوْمًا۔۲؎ اِس کے ساتھ ہی دل میں ایک تفہیم ہوئی جس کا یہ مطلب تھا جیسا کہ مَیں نے ابراہیم کو قوم بنایا۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر۲۲ مورخہ۳۱ ؍ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر۱۹ مورخہ۳۱؍ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ۱) (ب) ’’آفتوں اور مصیبتوں کے دن ہیں۔ایک دوست کا ذکر تھا جس پر بہت سی دُنیوی مشکلات گررہی ہیں۔فرمایا۔یہ الہام اُسی کے متعلق معلوم ہوتا ہے۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر۲۲ مورخہ۳۱ ؍ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر۱۹ مورخہ۳۱؍ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ۱) (ج) ’’کل مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک الہام مندرجہ ذیل الفاظ میں یا کِسی قدر تغیر لفظ سے ہوا تھا کہ ۱ (ترجمہ) کیا تجھے زلزلہ کی بات پہنچی ہے۔بلکہ اُن کے پاس وہ اچانک آئے گا۔(بدر مورخہ ۳۱؍ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۲ (ترجمہ ) مَیں تجھے آرام دوں گا اور تیرا نام نہیں مٹاؤں گا اور تجھ سے ایک بڑی قوم پیدا کروں گا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۳)