تذکرہ — Page 561
جو شاخوں کے رنگ میں ظاہر ہوگی۔‘‘ ( بدر جلد۲ نمبر۷مورخہ۱۶؍ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔الحکم جلد۱۰ نمبر۶مورخہ۱۷؍ فروری۱۹۰۶ء صفحہ۱) ۹ ؍فروری ۱۹۰۶ء ۱۔’’ وحی الٰہی۔زلزلہ آنے کو ہے۔رَبِّ لَا تُرِنِیْ مَوْتَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ۔۱؎بعد اس کے الہام ہوا۔جس سے تو بہت پیار کرتا ہے میں اُس سے بہت پیار کروں گا اور جس سے تو ناراض ہے میں اُس سے ناراض ہوں گا۔یعنی تیرا کسی سے محبت کرنا اس کو ایسی آفت سے بچائے گا اور تیرا کسی سے ناراض ہونا اس کو ایسی آفت میں مبتلا کرے گا۔پھر الہام ہوا۔اَیْنَـمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ۔یعنی جس طرف تیرا مونہہ ہوگا اسی طرف خدا بھی مونہہ کرے گا یعنی جس سے تجھے محبت ہوگی خدا بھی اس سے محبت کرے گا اور اسے بچائے گا۔پھر الہام ہوا۔خدا نے تیری ساری باتیں پوری کردیں۔یعنی خدا تمام کام تیری مراد کے موافق کرے گا۔اور پھر الہام ہوا وَ اِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْنَـتَوَفَّیَنَّکَ۲؎۔اور پھر الہام ہوا۔قُلْ اِنَّ صَلوٰتِیْ وَنُسُکِیْ وَ مَـحْیَایَ وَ مَـمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔۳؎ اور پھر زلزلہ کی طرف اشارہ کرکے الہام ہوا۔اِکْرَامٌ مَعَ الْاِنْعَامِ۔‘‘۴؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۸) ۲۔’’در کلامِ توچیزی ست کہ شعراء را دران دخلی نیست۔کَلَامٌ اُفْصِحَتْ مِنْ لَّدُنْ رَبٍّ کَرِیْمٍ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۶۲) (ترجمہ) تیرے کلام میں ایک چیز ہے جس میں شاعروں کو دخل نہیں۔تیرا کلام خدا کی طرف سے فصیح کیا گیا ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۵، ۱۰۶) ۱۰؍ فروری ۱۹۰۶ء ’’دیکھا کہ ایک جماعت ِ کثیر میرے پاس کھڑی ہے۔ایک حاکم آیا اور اس نے کھڑے ہوکر کہا کہ کیوں اس جماعت کو منتشر نہ کیا جاوے ؟ مَیں نے کہا کہ اس جماعت میں کوئی مخالفت نہیں ۱ (ترجمہ) اے میرے ربّ ان میں سے کسی کی موت مجھے نہ دکھلا۔(بدر مورخہ ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۲ (ترجمہ ازمرتّب) اور یا تو ہم بعض وہ عذاب کی پیشگوئیاں تیری زندگی میں پوری کرکے دکھلا دیں گے جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے اور یا تجھے وفات دے دیں گے اور بعد میں سب کچھ پورا کردیں گے۔۳ (ترجمہ از ناشر) تو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لئےہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔۴ (ترجمہ) خدا ایک عزت دے گا جس کے ساتھ ایک انعام ہوگا۔(بدر مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۲)