تذکرہ — Page 562
صرف تعلیم پاتے ہیں۔پھر اس حاکم نے کہ گویا وہ ایک فرشتہ تھا آسمان کی طرف منہ کرکے ایک دو باتیں کیں جو سمجھ میں نہیں آئیں۔پھر اُس نے مجھے مخاطب کرکے کہا کہ سلام، اور چلا گیا۔‘‘ ( بدر جلد۲ نمبر۷مورخہ۱۶؍ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ۲۔الحکم جلد۱۰ نمبر۶مورخہ۱۷؍ فروری۱۹۰۶ء صفحہ۱) ۱۱؍فروری ۱۹۰۶ء ’’ الہام۔۱۔پہلے بنگالہ۱؎ میں جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا۔اب اُن کی دلجوئی ہوگی۔‘‘۲؎ ۲۔کرنسی نوٹ۔اوّل ایک کتاب۳؎ دکھلائی گئی پھر الہام ہوا۔دیکھو میرے دوستو! اخبار شائع ہوگیا۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۶) ۱۹۰۶ء ’’ اَ مْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْـحَابَ الْکَھْفِ وَ الرَّقِیْمِ کَانُـوْا مِنْ اٰیَـاتِنَا عَــجَبًا۔‘‘۴؎ (الحکم جلد ۱۰ نمبر ۶ مورخہ ۱۷؍ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ۳) ۱۳؍ فروری ۱۹۰۶ء ۵؎روز سہ شنبہ ’’ رَبِّ اشْفِ زَوْجَتِیْ وَاجْعَلْ لَّھَا بَـرَکَاتٍ فِی السَّمَآءِ ۱ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ۱۷؍ فروری۱۹۰۶ء صفحہ۱ اور بدر مورخہ ۱۶؍ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ۲ میں ’’بنگالہ میں‘‘کی بجائے ’’بنگالہ کی نسبت‘‘ کے الفاظ درج ہیں۔۲ (نوٹ از سید عبد الحی) ۱۹۰۵ء میں بنگالہ کی جو تقسیم ہوئی تھی وہ اس کی دلآزاری کا باعث بنی۔آخر جارج پنجم نے اس الہام سے پانچ سال بعد وہ تقسیم منسوخ کردی جو بنگالیوں کی دلجوئی کا باعث بنی۔۳ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۶؍ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ پر تحریر ہے۔’’پھر ایک کتاب مجھے دی گئی گویا وہ کرنسی نوٹ تھے۔اور پھر الہاماً میری زبان پر جاری ہوا۔’’دیکھو میرے دوستو! اخبار شائع ہوگیا۔‘‘ فرمایا۔اخبار سے مراد خبر ہے۔‘‘ ۴ (ترجمہ از مرتّب) کیا تیر اخیال ہے کہ کہف اور رقیم والے ہمارے عجیب نشانات میں سے تھے۔(نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) چونکہ اِس الہام کے سَن کی تعیین نہیں ہوسکی اِس لئے سنِ اشاعت کے لحاظ سے اِسے یہاں درج کیا گیا۔۵ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۲۳؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ اور الحکم مورخہ ۲۴؍ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ میں اس الہام کی تاریخ ۱۶ فروری درج ہے نیز الہام کے الفاظ یہ ہیں۔رَبِّ اشْفِ زَوْجَتِیْ ھٰذِہٖ وَاجْعَلْ لَّھَا بَـرَکَاتٍ فِی السَّمَآءِ وَ بَـرَکَاتٍ فِی الْاَرْضِ۔