تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 560 of 1089

تذکرہ — Page 560

۳ ؍فروری ۱۹۰۶ء ’’اُٹھو نمازیں پڑھیں اور قیامت کا نمونہ دیکھیں۔‘‘ (کاپی الہامات۱؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۶) ۵ ؍فروری ۱۹۰۶ء روز دو شنبہ عید اضحٰی حضرت اقدس نےرؤیادیکھا کہ ’’میاں محمد اسحٰق پسر حضرت میر ناصر نواب صاحب اور صالحہ بی بنت صاحبزادہ منظور محمد کے باہمی۲؎ تعلق نکاح کی طیاری ہورہی ہے۔‘‘ ( بدر جلد۲ نمبر۶مورخہ۹؍ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ۵ زیرِ عنوان ’’ بَـارَکَ اللّٰہ ‘‘) ۷ ؍ فروری ۱۹۰۶ء ’’ ۱۔اِک دانہ کس کس نے کھانا۔۲۔یُـخْرِجُ ھَمُّہٗ وَ غَـمُّہٗ دَوْحَۃَ اِسْـمٰعِیْلَ۔۳؎ ۳۔یَـا نَبِیَّ اللّٰہِ کُنْتُ لَا اَعْرِفُکَ۔اے نبی اللہ میں تم کو پہچانتی نہیں تھی۔‘‘ (کاپی الہامات۴؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۶) ۸ ؍ فروری ۱۹۰۶ء ’’ خواب میں دیکھا گیا تھا کہ ہمارے باغ کے قریب ایک نہر رواں ہے۔مَیں کہتا ہوں کہ اب با غ جلد چند روز میں پرورش پا جائے گا اور اگر پانی بھی نہ ملے گا تب بھی سرسبز ہوجاوے گا۔میرے نزدیک اس کی تعبیر یہ ہے کہ باغ سے مراد اپنی جماعت ہے اور نہر سے مراد نصرت اور تائید ِ الٰہی ہے ۱ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۹؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ اور الحکم مورخہ ۱۰؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۱ میں اس الہام کی تفصیل میں تحریر ہے۔’’رات کے ۳بجے کے قریب جبکہ بادل نہایت زور سے گرج رہا تھا۔الہام ہوا۔اٹھو نمازیں پڑھیں اور قیامت کا نمونہ دیکھیں۔فرمایا۔اس وقت ہمارا شغل یہی ہوگا کہ نمازیں پڑھیں اور خدا کی عبرت کا نظارہ دیکھیں۔‘‘ ۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) چنانچہ اسی روز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی موجودگی میں حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ نے مسجد ِ اقصیٰ میں اس نکاح کا اعلان فرمایا۔( بدر مورخہ۹؍ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ۵) ۳ (ترجمہ از بدر) ۲۔اس کا ہم ّ اور غم باہر نکال دے گا۔اسمٰعیل کے درخت کو۔۴ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۱۰؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۱ اور بدر مورخہ ۱۶؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ میں یہ الہامات ترتیب کے اختلاف سے درج ہیں۔الحکم میں الہام نمبر ۲ کے بعد ’’فَاَخْفِھَا حَتّٰی تَـخْرُجَ‘‘ کے الفاظ بھی ہیں (یعنی اس کو پوشیدہ رکھ یہاں تک کہ وہ ظاہر ہوجاوے) جبکہ بدر میں یہی جملہ یوں درج ہے۔’’فَاَخْفِھَا حَتّٰی یَـخْرُجَ۔‘‘ (بدر میں ’’یَـخْرُجَ‘‘لکھا ہے جو سہو کاتب معلوم ہوتا ہے۔شمس) نیز الہام نمبر ۳ کے الفاظ بدر و الحکم میں یوں ہیں۔’’زمین کہتی ہے یَـا نَبِیَّ اللّٰہِ کُنْتُ لَا اَعْرِفُکَ۔‘‘