تذکرہ — Page 559
۲۸؍ جنوری ۱۹۰۶ء الہام۔’’ ۲۵؍ فروری کے بعد جانا ہوگا۔‘‘ ۱؎ (بدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخہ ۲؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخہ ۳۱؍جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ ) ۲۹؍ جنوری ۱۹۰۶ء ’’خواب میں دیکھا کہ زلزلہ آیا ہے اور زلزلہ شدید ہے لیکن نقصان کچھ نہیں ہوا اور ہم اُٹھ کر ایک طرف کو چلے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بیداری ہے۔اس کے بعد بیداری ہوئی۔تب مَیں نے کہا کہ یہ خواب تھی۔‘‘ ( بدر۲؎ جلد۲ نمبر۵مورخہ۲؍ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ۲) یکم فروری ۱۹۰۶ء ۱۔’’ تَتْبَعُھَا الرَّادِفَۃُ۔۳؎ ۲۔پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔۳۔وَ اَ مَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ۔۴؎ ۴۔۲۵؍ فروری ۱۹۰۶ء کے بعد جانا ہوگا۔(کاپی الہامات۵؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۶) ۱ (نوٹ) حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے اس الہام کو حضرت سیّدہ اُمِّ طاہر احمد پر چسپاں فرماتے ہوئے فرمایا۔’’اُمّ طاہر کی بیماری اور وفات کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعض الہامات میں بھی ذکر آتا ہے۔مَیں جب ہوشیار پور گیا تو رستہ میں میرا ذہن اس الہام کی طرف منتقل ہوا کہ ’’۲۵ ؍ فروری کے بعد جانا ہوگا۔‘‘ ہم نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح جلدی انہیں دوسرے ہسپتال میں منتقل کردیا جائے۔مَیں نے کرایہ پر کوٹھی لینے کی بھی بڑی کوشش کی مگر کسی دوسری جگہ منتقل ہونے کے سامان میسر نہ آسکے۔آخر ۲۵ ؍ فروری کو سر گنگا رام ہسپتال میں اُن کے داخلہ کا انتظام ہوا اور ۲۶؍ فروری کو ہم انہیں لے گئے۔‘‘ (الفضل مورخہ ۹؍ اپریل ۱۹۴۴ء صفحہ ۳) ۲ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ۳۱؍ جنوری۱۹۰۶ء صفحہ۳ میں بھی یہ خواب باختلافِ الفاظ درج ہے۔۳ (ترجمہ) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی۔یعنی ایک زلزلہ آیا اس کے بعد ایک اَور آنے والا ہے۔(بدر مورخہ ۹؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۴ (ترجمہ) اور جو چیز لوگوں کو نفع دینے والی ہے وہی زمین میں ٹھیرے گی۔یعنی جو انسان خلقت کو فائدہ پہنچانے والے ہیں ان کو زندگی عطا کی جاوے گی۔(بدر مورخہ ۹؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۵ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۹؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ اور الحکم مورخہ ۱۰؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۱ پر الہامات نمبر ۱ و ۲ و۳ مندرج ہیں جبکہ الہام ’’۲۵؍فروری ۱۹۰۶ء کے بعد جانا ہوگا ‘‘درج نہیں۔