تذکرہ — Page 532
۱۶؍ ستمبر۱۹۰۵ء رؤیا۔’’دیکھا کہ ایک شخص مسمّٰی شرمپت ساتھ ہے۔ایک گہرے پانی میں جو جھیل کی طرح ہے ہم ہر دو۲ کنارہ کی طرف تیرتے جاتے ہیں۔کنارہ بہت دُو رہے اور مَیں پانی پر لیٹا ہوا جارہا ہوں اور تیرتا چلاجاتا ہوں۔اِسی طرح تیرتے ہوئے جب مَیں قریب نصف کے پہنچا تو معلوم ہوا کہ قریباً زانو تک پانی ہے۔پھر کنارہ پر پہنچ گئے اور خیال آیا کہ میرا لڑکا مبارک اُسی کنارہ پر رہا ہے۔پھر ہم اس کو لینے کے واسطے واپس آئے۔تب دیکھا کہ پانی ایک طرف سے بالکل خشک ہے ایک طرف باقی ہے اور لوگ خشکی پر چلتے ہیں ہم بھی خشکی کی راہ پر چلنے لگے۔فرمایا۔بظاہر تو آج کل مولوی عبدالکریم صاحب کے واسطے دعا کی جاتی ہے اور غالباً ان کے متعلق یہ رؤیاہے۔شاید یہ تعبیر ہو کہ ایک حصّہ زخم کا خشک ہوگیا ہے اور دوسرا حصّہ ابھی باقی ہے اور شرمپت کے لفظ سے انجام بخیر معلوم ہوتا ہے۔وَ اللہُ اَعْلَمُ۔‘‘ ( بدر جلد ۱ نمبر۲۵ مورخہ۲۲؍ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۳۳ مورخہ۲۴؍ ستمبر۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۱۹؍ ستمبر۱۹۰۵ء رؤیا۔’’ دیکھا کہ مرزا غلام قادر صاحب میرے بڑے بھائی نہایت سفید لباس پہنے ہوئے میرے ساتھ جارہے ہیں اور کچھ باتیں کرتے ہیں۔ایک شخص ان کی باتیں سنکر کہتا ہے کہ یہ کیسی فصیح بلیغ گفتگو کرتے ہیں گویا پہلے سے حفظ کرکے آئے ہیں۔فقط فرمایا۔ہمارا تجربہ ہے کہ جب کبھی ہم اپنے بھائی صاحب کو خواب میں دیکھتے ہیں اس سے مراد کسی مشکل کام کا حل ہونا ہوتا ہے…غلام قادر سے خدائے قادر کی قدرت کی طرف اشارہ ہے۔‘‘ ( بدر جلد ۱ نمبر۲۵ مورخہ۲۲؍ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۳۳ مورخہ۲۴؍ ستمبر۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۲۰؍ ستمبر۱۹۰۵ء ’’خواب میں دیکھا کہ میں قصبہ بٹالہ میں ہوں۔عصر کا وقت تنگ ہوتا جاتا ہے اور بازار میں جارہا ہوں ایک طرف دہنی طرف بازار کے دیکھا ایک چھوٹی سی مسجد ہے۔میں نماز کے ارادہ سے مسجد میں گیا دور سے مرزا خدا بخش کی آواز آئی پھر میں مسجد میں داخل ہوا۔مرزا خدا بخش تو کہیں چلا گیا مگر آگے مرزا رحمت اللہ بیگ مرحوم کھڑا ہے اور میاں منظور محمد بھی نظر آیا۔اسحاق۱؎ نے کہا کہ مرزا صاحب نے رحمت اللہ کی روٹی ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ سابق ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ وناظر ضیافت۔