تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 533 of 1089

تذکرہ — Page 533

بند کردی ہے اور نکال دیا ہے اُس کا ارادہ تھا کہ کہیں چلا جاؤں مگر منظور محمد نے روک لیا ہے اور کہا کہ ہم دونوں مل کر یہاں تجارت کریں گے بعد اس کے الہام ہوا۔اِنِّیْ؎۱ اَنَـا الرَّحْـمٰنُ لَا یَـخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ۔قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَ رْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمْ یَلْعَبُوْنَ۔‘‘؎۲ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۹) ۱ (ترجمہ) تحقیق مَیں رحمٰن خدا ہوں۔مُرسل میرے پاس نہیں ڈرا کرتے کہ یہ خدا کے کام ہیں۔پھر ان کو چھوڑ دے۔جن کاموں میں لگے ہوئے ہیں ان میں لہو لعب کریں۔(بدر مورخہ ۲۲؍ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۷) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’ دیکھا کہ مَیں بٹالہ کو جاتا ہوں۔خیال آیا کہ نماز کا وقت تنگ ہے اس واسطے ایک مسجد میں گیا جو کہ چھوٹی سی مسجد ہے۔مسجد کے زینوں پر سے چڑھتے ہوئے مرزا خدا بخش صاحب کی آواز آئی۔وہ تو کہیں کو چلے گئے۔پھر جب مَیں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ بڑے مرزا صاحب یعنی والد صاحب کا ایک پرانا نوکر مرزا رحمت اللہ نام جو قریباً پچاس سال تک والد صاحب کی خدمت میں رہا تھا اور جس کو فوت ہوئے بھی قریباً چالیس سال ہوئے ہیں وہاں موجود ہے اور غمگین سا ہے اور مسجد کے کنوئیں کی منڈیر پر محمد اسحٰق بیٹھا ہے اور پیر منظور محمد بھی اس جگہ ہے۔اسحٰق نے مرزا رحمت اللہ کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ بڑے مرزا صاحب نے اس کی روٹی بند کردی ہے اور یہ ارادہ کرتا تھا کہ چلا جائے اور خدا جانے کہاں جانا تھا مگر منظور محمد نے اس کو رکھ لیا ہے کہ تجارت کرکے گذارہ کرلیں گے۔ہمارے دل میں خیال آیا کہ معلوم نہیں مرزا صاحب نے کیوں روٹی بند کردی ہے بزرگوں کے کام پر اعتراض نہیں ہوسکتا۔پھر الہام ہوا۔اِنِّیْٓ اَنَـا الرَّحْـمٰنُ لَا یَـخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ۔قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمْ یَلْعَبُوْنَ۔فرمایا کہ یہ ایک پُر معنی خواب ہے اور مولوی عبدالکریم صاحب کے متعلق معلوم ہوتی ہے۔روٹی مدارِ حیات ہے کیونکہ خوراک کے ساتھ زندگی کا بقا ہے۔روٹی کا بند ہونا اِس دُنیا سے فوت ہوجانا ہوتا ہے۔سو بنظرِ اسباب ظاہری یہ سخت بیماری ایک موت کا پیغام ہے۔لیکن روٹی پھر لگ گئی ہے کیونکہ منظور محمد نے رحمت اللہ کو رکھ لیا ہے۔رحمت اللہ سے مراد خدا کی رحمت ہے اور منظور محمد سے مراد وہ امر ہے جو محمد کو منظور ہے۔وحی ٔ الٰہی نے میرا نام محمد بھی رکھا ہے۔پس اِس سے مراد مولوی صاحب کی صحت اور تندرستی ہے جس کے واسطے ہم دعائیں کرتے ہیں۔تجارت سے مراد دعا کرنا، خدا پر ایمان رکھنا، اس پر بھروسہ کرنااور اعمالِ صالحہ کا بجالانا ہے۔جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے یٰٓـاَیُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھَلْ اَدُلُّکُمْ