تذکرہ — Page 500
قریب ہے جس کی پہلے نبیوں نے بھی خبر دی تھی۔مجھے اُس ذات کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا کہ یہ سب باتیں اُس کی طرف سے ہیں میری طرف سے نہیں ہیں۔کاش یہ باتیں نیک ظنی سے دیکھی جاویں۔کاش مَیں اُن کی نظر میں کاذب نہ ٹھیرتا تا دنیا ہلاکت سے بچ جاتی… ورنہ وہ دِن آتا ہے کہ انسانوں کو دیوانہ کردے گا۔نادان بدقسمت کہے گا کہ یہ باتیں جھوٹ ہیں۔ہائے وہ کیوں اس قدر سوتا ہے۔آفتاب تو نکلنے کو ہے۔جب خدائے تعالیٰ اس وحی کے الفاظ میرے پر نازل کرچکا تو ایک رُوح کی آواز میرے کان میں پڑی جو کوئی ناپاک رُوح تھی اور مَیں نے اس کو یہ کہتے سنا کہ مَیں سوتے سوتے جہنّم میں پڑ گیا انسان کا کیا حَرج ہے اگر وہ فسق و فجور کو چھوڑ دے۔کون سا اس میں اس کا نقصان ہے اگر وہ مخلوق پرستی نہ کرے۔آگ لگ چکی ہے۔اُٹھو اور اس آگ کو اپنے آنسوؤں سے بجھاؤ۔‘‘ (اشتہار الانذار ۸؍اپریل ۱۹۰۵ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۳۵۲ تا ۳۵۴ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۹؍ اپریل۱۹۰۵ء ’’۹؍اپریل ۱۹۰۵ء کو پھر خدا تعالیٰ نے مجھے ایک سخت زلزلہ کی خبر دی ہے جو نمونہ قیامت اور ہوش رُبا ہوگا۔چونکہ ۲دو مرتبہ مکرر طور پر اس علیم مطلق نے اس آئندہ واقعہ پر مجھے مطّلع فرمایا ہے اِس لئے مَیں یقین رکھتا ہوں کہ یہ عظیم الشان حادثہ جو محشر کے حادثہ کو یاد دلادے گا۔دُور؎۱ نہیں ہے۔مجھے خدائے عزوجل نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ دونوں زلزلے تیری سچائی ظاہر کرنے کے لئے ۲دو نشان ہیں اُنہیں نشانوں کی طرح جو موسٰی نے فرعون کے سامنے دکھلائے تھے اور اُس نشان کی طرح جو نوح ؑنے اپنی قوم کو دکھلایا تھا۔اور یاد رہے کہ ان نشانوں کے بعد ابھی بس نہیں ہے بلکہ کئی نشان ایک دوسرے کے بعد ظاہر ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ انسان کی آنکھ کھلے گی اور حیرت زدہ ہوکر کہے گا کہ یہ کیا ہوا چاہتا ہے۔ہر ایک دن سخت اور پہلے سے بد تر آئے گا۔خدا فرماتا ہے کہ مَیں حیرت ناک کام دکھلاؤں گا اور بس نہیں کروں گا جب تک کہ لوگ اپنے دلوں کی اصلاح نہ کرلیں اور جس طرح یوسف ؑ نبی کے وقت میں ہوا کہ سخت کال پڑا یہاں تک کہ کھانے کے لئے درختوں کے پتے بھی نہ رہے۔اسی طرح ایک آفت کا سامنا موجود ہوگا اور جیسا کہ یوسف ؑ نے اناج کے ذخیرے سے لوگوں کی جان بچائی اسی طرح جان بچانے کے لئے خدا نے اِس جگہ بھی مجھے ایک روحانی ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اگر خدا تعالیٰ نے اُس آفت ِ شدیدہ کے ظہور میں بہت ہی تاخیر ڈال دی تو زیادہ سے زیادہ سولہ سال ہیں اِس سے زیادہ نہیں۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصّہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۵۸)