تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 501 of 1089

تذکرہ — Page 501

غذا کا مہتمم بنایا ہے۔جو شخص اس غذا کو سچّے دل سے پورے وزن کے ساتھ کھائے گا مَیں یقین رکھتا ہوں کہ ضرور اس پر رحم کیا جائے گا… ہاں خدا نے مجھے یہ خبر دے رکھی ہے کہ طاعون اِس جماعت کی تعداد کو بڑھائے گی اور دوسرے مسلمانوں کی تعداد کو گھٹائے گی… مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس آنے والے نشان کے بعد جو مجھ کو قبول کرے گا اس کا ایمان قابلِ عزت نہیں۔جس کے کان ہیں سنے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا غضب زمین پر بھڑکا ہے کیونکہ زمین والوں نے میری طرف سے منہ پھیر لیا ہے۔پس جب ایک انسانی سلطنت عدول حکمی سے ناراض ہوجاتی ہے اور ہولناک سزادیتی ہے پھر خدا کا غضب کیسا ہوگا۔پس توبہ کرو کہ دن نزدیک ہیں۔اور اس بارے میں جو عربی میں مجھے وحیِ الٰہی ہوئی اِس جگہ مَیں اُس کو معہ ترجمہ لکھ کر اس اشتہار کو ختم کرتا ہوں اور وہ یہ ہے۔بخور آنچہ ترابخور انم۔لَکَ دَرَجَۃٌ فِی السَّمَآءِ وَ فِی الَّذِ یْنَ ھُمْ یُبْصِـرُوْنَ۔نَـزَلْتُ لَکَ۔لَکَ نُرِیْ اٰیَـاتٍ وَّ نَـھْدِ۔مُ مَا یَعْمُرُوْنَ۔قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّـؤْمِنُوْنَ۔کَـفَفْتُ عَنْ بَنِیْٓ اِسْـرَآءِیْلَ۔اِنَّ فِرْعَـوْنَ وَھَامَانَ وَجُنُوْدَھُمَا کَانُوْا خَاطِئِیْنَ۔اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔یعنی جو کچھ مَیں تجھے کھلاتا ہوں وہ کھا۔تیرا آسمان پر ایک درجہ ہے اور نیز ان میں درجہ ہے جو آنکھیں رکھتے ہیں اور دیکھتے ہیں اور مَیں تیرے لئے زمین پر اُتروں گا تا اپنے نشان دکھلاؤں۔ہم تیرے لئے زلزلہ کا نشان دکھلائیں گے اور وہ عمارتیں جن کو غافل انسان بناتے ہیں یا آئندہ بنائیں؎۱ گے گرادیں گے۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک زلزلہ نہیں بلکہ کئی زلزلے ہوں گے جو عمارتوں کو وقتاً وفوقتاً گرائیں؎۲ گے۔اور پھر فرمایا کہ مَیں تیری جماعت کے لوگوں کو جو مخلص ہیں اور بیٹوں کا حکم رکھتے ہیں، بچاؤں گا۔اِس وحی ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یہ پیشگوئی ۲۰؍ مئی ۱۹۰۵ء کو پوری ہوگئی۔یعنی دھرم سالہ میں مورخہ ۲۰؍ مئی ۱۹۰۵ء کو پھر سخت زلزلہ آیا اور کئی نئے مکانات جو رہائش کے لئے بنائے گئے تھے گِر گئے۔(دیکھیے سول اینڈ ملٹری گزٹ مورخہ ۲۴؍ مئی ۱۹۰۵ء ) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔’’یہ فقرہ روحانی اور ظاہری دونوں معنی رکھتا ہے۔اس کے یہ بھی معنے ہیں کہ بد اَندیشیوں اور منصوبوں کی جو جو عمارتیں وہ بنائیں گے اُنہیں اللہ تعالیٰ مُنہدم کرتا رہے گا۔‘‘ (الحکم مورخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۶ )