تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 499 of 1089

تذکرہ — Page 499

کہا حضرت نے ان کا سخت قلق اور رنج دیکھ کر بہت توجہ سے دعا کی تو جواب میں یہ الہام ہوا۔اسسٹنٹ سرجن‘‘ ؎۱ (بدر جلد ۱ نمبر۶ ۱ مورخہ ۲۰؍ جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ ۷) ۸ ؍اپریل۱۹۰۵ء ’’آج رات تین بجے کے قریب خدائے تعالیٰ کی پاک وحی مجھ پر نازل ہوئی جو ذیل میں لکھی جاتی ہے۔تازہ نشان۔تازہ نشان کا دھکہ۔زَلْزَلَۃُ السَّاعَۃِ۔قُوْا اَنْفُسَکُمْ۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الْاَ بْـرَارِ۔دَنٰی مِنْکَ الْفَضْلُ۔جَآءَ الْـحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ۔(ترجمہ مع شرح) یعنی خدا ایک تازہ نشان دکھائے گا۔مخلوق کو اس نشان کا ایک دھکہ لگے گا۔وہ قیامت کا زلزلہ ہوگا۔مجھے علم نہیں دیا گیا کہ زلزلہ سے مراد زلزلہ ہے یا کوئی اَور شدید آفت ہے جو دنیا پر آئے گی جس کو قیامت کہہ سکیں گے اور مجھے علم نہیں دیا گیا کہ ایسا حادثہ کب آئے گا اور مجھے علم نہیں کہ وہ چند دن یا چند ہفتوں تک ظاہر ہوگا یا خدائے تعالیٰ اس کو چند مہینوں یا چند سال کے بعد ظاہر فرمائے گا۔بہرحال وہ حادثہ زلزلہ ہو یا کچھ اَور ہو۔قریب ہو یا بعید ہو۔پہلے سے بہت خطرناک ہے۔سخت خطرناک ہے۔اگر ہمدردی ٔ مخلوق مجھے مجبور نہ کرتی تو مَیں بیان نہ کرتا… بقیہ ترجمہ عربی وحی کا یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی کرکے اپنے تئیں بچالو قبل اس کے جو وہ ہولناک دن آوے جو ایک دَم میں تباہ کردے گا۔اور فرماتا ہے کہ خدا اُن کے ساتھ ہے جو نیکی کرتے ہیں اور بدی سے بچتے ہیں اور پھر اُس نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ میرا فضل تیرے نزدیک آگیا۔یعنی وہ وقت آگیا کہ تُو کامل طور پر شناخت کیا جاوے۔حق آگیا اور باطل بھاگ گیا … دیکھو! آج مَیں نے بتلادیا۔زمین بھی سنتی ہے اور آسمان بھی کہ ہرایک جو راستی کو چھوڑ کر شرارتوں پر آمادہ ہوگا اور ہرایک جو زمین کو اپنی بدیوں سے ناپاک کرے گا وہ پکڑا جائے گا۔خدا فرماتا ہے کہ قریب ہے جو میرا قہر زمین پر اُترے کیونکہ زمین پاپ اور گناہ سے بھر گئی۔پس اُٹھو اور ہوشیار ہوجاؤ کہ وہ آخری وقت ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) چنانچہ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب اسی سال میڈیکل کالج لاہور کے آخری امتحان میں تمام پنجاب میں اوّل نمبر پر پاس ہوکر اسسٹنٹ سرجن مقرر ہوئے اور ۱۹۲۸ء میں سول سرجن لگ کر ۱۹۳۶ء میں ریٹائر ہوئے۔