تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 451 of 1089

تذکرہ — Page 451

اس کو پکڑا اور زمین سے اس کو رگڑنا چاہا لیکن جب میں زمین سے اس کو لگانا چاہتا ہوں تو وہ زور کرکے اوپر کو آجاتی ہے مگر بہر حال اس کا گلا میرے ہاتھ میں ہے جب کسی طرح وہ زمین پر لگ سکے جیسا کہ میرا منشاء تھا تب میں نے کہا آؤ اس بلّی کو پھانسی دے دیں۔اور پھر میں نے آئینہ خواب میں دیکھا اور رعب ناک اور چمکتا ہوا چہرہ نظر آیا۔‘‘ (کاپی الہامات۱؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۵) یکم ستمبر۱۹۰۳ء ’’ فرمایا کہ آج خواب میں ایک فقرہ منہ سے یہ نکلا۔فیر مین ‘‘؎۲ (البدر جلد۲ نمبر۲۴ مورخہ۱۱؍ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ۳۶۶) ۴ ؍ستمبر۱۹۰۳ء ’’دیکھا کہ دو فرشتے یا دو آدمی میرے پاس آتے ہیں ایک دہنے طرف ایک بائیں طرف اور دونوں کے پاس پستول ہیں اور میں لیٹا ہوا تھا۔بعد اس کے الہام ہوا۔فِیْ حِفَاظَۃِ اللّٰہِ۔‘‘ ؎۳ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۶) ۵؍ستمبر۱۹۰۳ء ’’مَیں نے ایک کشفی نظر میں دیکھا کہ ایک درخت سرو کی ایک بڑی لمبی شاخ جو نہایت خوبصورت اور سرسبز تھی ہمارے باغ میں سے کاٹی گئی ہے اور وہ ایک شخص کے ہاتھ میں ہے تو کسی نے کہا کہ اِس شاخ کو اس زمین میں جو میرے مکان کے قریب ہے اس بیری؎۴ کے پاس لگا دو جو اس سے پہلے کاٹی گئی ۱ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۱۱؍ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۶۵ میں یہی رؤیا باختلاف الفاظ درج ہے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) اچھا آدمی (Fairman) ۳ (ترجمہ از مرتّب) اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں۔(نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۱۸؍ستمبر۱۹۰۳ء صفحہ ۳۸۰ اور الحکم مورخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ میں یہ رؤیا باختلاف تاریخ و الفاظ درج ہے۔۴ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری)حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے اِس کشف کو ۲دو شہید وں (صاحبزادہ سیّد عبداللطیف صاحب اور مولوی نعمت اللہ صاحب ) پر چسپاں فرماتے ہوئے فرمایا۔’’ بیری جو پہلے کاٹی گئی تھی اس سے مراد سیّد عبداللطیف صاحب تھے۔انہیں بیری قرار دے کر اس طرف اشارہ کیا گیا کہ وہ پھل دار یعنی صاحب ِ اولاد تھے اور سرو کی شاخ سے یہ مراد تھی کہ بیری کے بعد جو شاخ کاٹی جائے گی وہ پھلدار نہیں ہوگی چنانچہ مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی ابھی تک شادی بھی نہ ہوئی تھی کہ شہید کردیئے گئے۔‘‘ (الفضل مورخہ ۱۱؍ دسمبر ۱۹۲۴ء صفحہ ۵)