تذکرہ — Page 452
تھی اور پھر دوبارہ اُگے گی اور ساتھ ہی مجھے یہ وحیِ الٰہی ہوئی کہ ’’کابل سے کاٹا گیا اور سیدھا ہماری طرف آیا‘‘ اس کی مَیں نے یہ تعبیر کی کہ تخم کی طرح شہید مرحوم کا خون زمین پر پڑا ہے اور وہ بہت بارور ہو کر ہماری جماعت کو بڑھاوے گا۔‘‘ (تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۵۷) ۷ ؍ ستمبر۱؎۱۹۰۳ء ’’الہام۔سَلَامٌ ؎۲عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ۔یَـا حَفِیْظُ۔یَـاعَـزِیْزُ۔یَـا رَفِیْقُ۔‘‘؎۳ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۶) ۱۰؍ ستمبر۱۹۰۳ء ’’خواب۔مَیں نے دیکھا میرے ہاتھ میں ایک کتاب ہے کسی مخالف کی۔مَیں اس کو پانی میں دھو رہا ہوں اور ایک شخص پانی ڈالتا ہے۔جب مَیں نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو وہ ساری کتاب دھوئی گئی ہے اور سفید کاغذ نکل کر آیا ہے صرف ٹائٹل پیج پر ایک نام یا اس کے مشابہ رہ گیا ہے۔‘‘ ؎۴ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۷) ۲۱؍ ستمبر۱۹۰۳ء ’’رسول صلی اللہ علیہ وسلم پناہ گزیں ہوئے قلعۂ ہند میں۔‘‘؎۵ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۷ و الحکم جلد ۷ نمبر ۴۶، ۴۷ مورخہ ۱۷و ۲۴؍دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵) ۱ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ اورالبدر مورخہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۸۰ میں ان الہامات کی تاریخ ۹؍ستمبر ۱۹۰۳ء مرقوم ہے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) تمہارے لئے سلامتی ہے خوش رہو۔اے حفاظت کرنے والے۔اے غالب۔اے رفیق۔۳ (نوٹ از البدر) فرمایا۔’’ مجھے الہام ہوا۔سَلَامٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ۔پھر چونکہ بیماری وبائی کا بھی خیال تھا۔اس کا علاج خدا تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ اس کے ان ناموں کا ورد کیا جاوے۔یَـا حَفِیْظُ۔یَـاعَـزِیْزُ۔یَـا رَفِیْقُ۔رفیق خدا تعالیٰ کا نیا نام ہے جو کہ اس سے پیشتر اسمائے باری تعالیٰ میں کبھی نہیں آیا۔‘‘ (البدر مورخہ ۱۸؍ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۸۰۔الحکم مورخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ ) ۴ (نوٹ از ناشر) سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس خواب کو اپنے ان خطبات پر منطبق کیا جو آپ نے ان افتراءات کے ردّ میں ارشاد فرمائے تھے جو جنرل ضیاء الحق کے زمانہ میں حکومت نے اپنے ’’وائٹ پیپر‘‘ میں جماعت احمدیہ پر لگائے تھے۔دیکھیے ’’ زَھَقَ الْبَاطِل‘‘ صفحہ ۵۸۱ تا ۵۸۳ طبع اوّل۔۵ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ یکم جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۶ میں یہ الہام یوں درج ہے۔’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پناہ گزیں ہوئے قلعۂ ہند میں۔‘‘