تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 450 of 1089

تذکرہ — Page 450

۲۰ ؍اگست۱۹۰۳ء ’’کَـتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَـا وَ رُسُلِیْ۔‘‘ (البدر جلد۲ نمبر۳۲ مورخہ۲۸؍ اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۲۵۳۔الحکم جلد ۷نمبر۳۱ مورخہ۲۴ ؍ اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۶) (ترجمہ) ’’خدا نے لکھ چھوڑا ہے کہ مَیں اور میرے رسول غالب رہیں گے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۷۵، ۷۶) ۲۲ ؍اگست۱۹۰۳ء الہام۔’’خدا کی پناہ میں عمر گذارو۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۵ البدر جلد ۲ نمبر ۳۲ مورخہ ۲۸؍ اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۵۳۔الحکم جلد ۷ نمبر ۳۱ مورخہ ۲۴؍ اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۶) ۲۳؍ اگست۱۹۰۳ء ’’۲۳؍ اگست ۱۹۰۳ء کو بزبان انگریزی مَیں نے ڈوئی؎۱کے مقابل پر ایک اشتہار شائع کیا تھا اور خدا تعالیٰ سے الہام پاکر اس میں لکھا تھا کہ خواہ ڈوئی میرے ساتھ مباہلہ کرے یا نہ کرے وہ خدا کے عذاب سے نہیں بچے گا اور خدا جھوٹے اور سچے میں فیصلہ کرکے دکھلائے گا۔‘‘ (تتمہ حقیقۃالوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۵۰۹ حاشیہ) ۲۴؍ اگست۱۹۰۳ء ’’۲۴؍اگست ۱۹۰۳ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بلّی ہے گویا وہ میرے ایک کبوتر پر حملہ کرتی ہے۔میں نے اس کی ناک کاٹ دی تب بھی وہ حملہ سے باز نہیں آئی تب میں نے گلے سے ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) ’’یہ شخص امریکہ کا باشندہ تھا۔اِسلام کا سخت دشمن اور عیسائیت کا پکا حامی تھا۔اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور حضرت اقدس کے بار بار سمجھانے کے باوجود اس کے رویہ میں ذرا تغیر پیدا نہ ہوا بلکہ دن بدن تکبر، شوخی اور شرارت میں بڑھتا گیا۔آخر حضرت اقدس اور اس کے درمیان مباہلہ ہوا جس کے مضمون کو یورپ و امریکہ کے متعدد اخباروں نے شائع کیا۔(تفصیل کے لئے دیکھیے تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۰۶، ۵۰۷) پھر اس کا جو حشر ہوا اسے میں حضور ہی کے الفاظ میں بیان کرتا ہوں۔’’اس (ڈوئی) کی زندگی کے ہر ایک پہلو پر آفت پڑی۔اس کا خائن ہونا ثابت ہوا اور وہ شراب کو اپنی تعلیم میں حرام قرار دیتا تھا مگر اُس کا شراب خوار ہونا ثابت ہوگیا اور وہ اُس اپنے آباد کردہ شہر صیحون سے بڑی حسرت کے ساتھ نکالا گیا جس کو اُس نے کئی لاکھ روپیہ خرچ کرکے آباد کیا تھا اور نیز سات کروڑ نقد روپیہ سے جو اُس کے قبضہ میں تھا اس کو جواب دیا گیا اور اس کی بیوی اور اُس کا بیٹا اُس کے دشمن ہوگئے اور اُس کے باپ نے اشتہار دیا کہ وہ ولدالزنا ہے… آخر کار اُس پر فالج گِرا اور ایک تختہ کی طرح چند آدمی اُس کو اُٹھا کر لے جاتے رہے اور پھر بہت غموں کے باعث پاگل ہوگیا اور حواس بجا نہ رہے… آخر کار مارچ ۱۹۰۷ء کے پہلے ہفتہ میں ہی بڑی حسرت اور دَرد اور دُکھ کے ساتھ مر گیا۔‘‘ (تتمہ حقیقۃالوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۵۱۲، ۵۱۳)