تذکرہ — Page 449
شَاْنِکَ۔قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمْ یَلْعَبُوْنَ۔۶۔مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْـمٰنِ مِنْ تَفَاوُتٍ۔‘‘ ؎۱ (البدر جلد۲ نمبر۳۲ مورخہ۲۸ ؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۲۵۳۔الحکم جلد ۷نمبر۳۱ مورخہ۲۴؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۶) (ترجمہ)’’۲مَیں تجھے ایسی بزرگی دوں گا جس سے لوگ تعجب میں پڑیں گے ۳آسمان اور زمین ایک گٹھڑی کی طرح بندھے ہوئے تھے ہم نے ان دونوں کو کھول دیا۔یعنی زمین نے اپنی پوری قوت ظاہر کی، اور آسمان نے بھی۔۴ان کو کہہ کہ وہ خدا ہے جس نے یہ کلما ت نازل کئے ہیں۔پھر ان کو لہو و لعب کے خیالات میں چھوڑ دے ۵یعنی تیری شان کے بارے میں پوچھیں گے کہ تیری شان اور کیا مرتبہ ہے۔کہہ وہ خدا ہے جس نے مجھے یہ مرتبہ بخشا ہے۔پھر ان کو اپنی لہو و لعب میں چھوڑ دے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۳، ۷۳، ۱۱۰، ۲۷۷، ۲۷۸) ۱۸؍ اگست۱۹۰۳ء رؤیا۔’’ ایک خوان میرے آگے پیش ہوا ہے۔اس میں فالودہ معلوم ہوتا ہے اور کچھ فیرنی بھی رکابیوں میں ہے۔مَیں نے کہا کہ چمچہ لاؤ۔تو کسی نے کہا کہ ہر ایک کھانا عمدہ نہیں ہوتا سوائے فیرنی اور فالودہ کے۔‘‘ (البدر جلد۲ نمبر۳۲ مورخہ۲۸؍ اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۳۵۱) ۱۹؍ اگست۱۹۰۳ء ’’ اَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْـحَابِ الْفِیْلِ۔اَلَمْ یَـجْعَلْ کَیْدَ ھُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۳۲ مورخہ ۲۸ ؍ اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۵۳۔الحکم جلد ۷ نمبر ۳۱ مورخہ ۲۴؍ اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۶) (ترجمہ) ’’کیا تُونے نہیں دیکھا کہ تیرے ربّ نے اصحابِ فیل کے ساتھ کیا کِیا۔کیا اس نے اُن کے مکر کو اُلٹا کر اُنہیں پر نہیں مارا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۱۰۸) ۱۹؍ اگست۱۹۰۳ء ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنَـا فَاتَّـخِذْ نِیْ وَکِیْلًا۔‘‘ ؎۲ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۵) بقیہ حاشیہ۔سیف چشتیائی کے جواب میں نہیں لکھی گئی۔‘‘ سوال۔جن لوگوں کا ذکر صفحہ ۴۸ لغایت صفحہ ۵۰اِس کتاب میں لکھا ہے آپ ہی اس کا مصداق ہیں؟ جواب۔خدا کے فضل اور رحمت سے مَیں اس کا مصداق ہوں۔‘‘ (دیکھیے سیرۃ المہدی جلد اوّل صفحہ ۳۵۳،۳۵۴ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) پس حقیقۃالوحی کے اِس حوالہ میں تحفہ گولڑویہ کے بجائے تریاق القلوب سہواً لکھا گیا ہے۔(مرزا بشیر احمد) ۱ (ترجمہ از مرتّب) ۶۔رحمٰن کی پیدائش میں تم کوئی کسر نہیں پاؤ گے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) میرے سوا اَور کوئی معبود نہیں۔پس تو مجھے ہی اپنا کارساز بنا۔