تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 421 of 1089

تذکرہ — Page 421

قُتِلَ خَیْبَۃً۔وَ زِیْدَ ھَیْبَۃً۔‘‘؎۱ (البدر جلد ۱نمبر۱۲ مورخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۶۔الحکم جلد ۷ نمبر ۲ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۶ حاشیہ) (ترجمہ) ’’خدا کا وعدہ آیا اور زمین پر ایک پاؤں مارا۔اور خلل کی اصلاح کی۔پس مبارک وہ جس نے پایا اور دیکھا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۹۴) ’’ایسی حالت میں مارا گیا کہ اس کی بات کو کسی نے نہ سنا اور اس کا مارا جانا ایک ہیبت ناک امر تھا۔یعنی لوگوں کو بہت ہیبت ناک معلوم ہوا اور اس کا بڑا اثر دلوں پر ہوا۔‘‘ (تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد۲۰صفحہ ۷۵ حاشیہ) ۱۱ ؍جنوری ۱۹۰۳ء (الف) ’’ ثُمَّ فِیْ یَـوْمٍ مِّنَ الْاَیَّـامِ۔اُرِیْتُ قِرْطَاسًا مِّنْ رَّبِّیَ الْعَلَّامِ۔وَ اِذَا نَظَرْتُ فَوَجَدْ تُّ عُنْوَانَہٗ بَقِیَّۃُ الطَّاعُوْنِ۔وَ عَلٰی ظَھْرِہٖ اِعْلَانٌ مِّنِّیْ کَاَنِّیْ اَشَعْتُ مِنْ عِنْدِیْ وَاقِعَۃُ ذٰلِکَ الْمَنُوْنِ۔‘‘ ۲؎ (مواہب الرحمٰن۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۳۲۸) (ب) ’’اب طاعون سر پر ہے اور جہاں تک مجھے خدا تعالیٰ سے علم دیا گیا ہے ابھی بہت سا حصّہ اس کا باقی ہے۔‘‘ (لیکچر لاہور۔روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ ۱۷۴) ۱ اس الہام کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’ ایک صریح وحی الٰہی صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم کی نسبت ہوئی تھی جبکہ وہ زندہ تھے بلکہ قادیان میں ہی موجود تھے۔‘‘ (دیکھیے حاشیہ اشتہار ۱۶؍اکتوبر ۱۹۰۳ء مندرجہ تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۷۵ حاشیہ) ۲ (ترجمہ از ناشر) ایک دن خدائے علیم کی طرف سے مجھے ایک کاغذ دکھایا گیا اور جب میں نے اس پر نگاہ ڈالی تو میں نے اس پر بَـقِـیَّــۃُ الــطَّاعُــوْن (طاعون کا باقی ماندہ حصہ) کا عنوان لکھا ہوا پایا اور اس کی پشت پر میری طرف سے ایک اعلان رقم ہے۔گویا میں نے اپنی طرف سے ان اموات کا واقعہ شائع کیا۔(نوٹ از ناشر) یہ الہام الحکم مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۶ حاشیہ اور بدر مورخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۴ میں یوں درج ہے۔’’ فرمایا کہ ابھی فجر کو مَیں نے ایک خواب دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے۔اس کے ایک طرف کچھ اشتہار ہے اور دوسری طرف ہماری طرف سے لکھا ہوا ہے۔جس کا عنوان یہ ہے۔بَــقِــیَّـــۃُ الــطَّـاعُـــوْنِ۔‘‘