تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 420 of 1089

تذکرہ — Page 420

(ب) ’’ حضرت اقدسؑ تشریف لائے تو کمر کے گرد ایک صافہ لپیٹا ہوا تھا۔فرمایا کہ کچھ شکایت درد گردہ کی شروع ہو رہی ہے اِس لئے مَیں نے باندھ لیا ہے ذرا غنودگی ہوئی تھی اس میں الہام ہوا ہے۔تا عَودِ صحت ؎۱ فرمایا کہ۔صحت تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے جب تک وہ ارادہ نہ کرے کیا ہوسکتا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۱نمبر۱۱ مورخہ۹؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۸۵) ۲؍ جنوری ۱۹۰۳ء ’’ فرمایا رات مجھے الہام ہوا۔جَآءَنِیْ اٰئِلٌ وَّاخْتَارَ۔وَ اَدَارَ اِصْبَعَہٗ وَ اَشَارَ۔یَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنَ الْعِدَا وَیَسْطُوْ بِکُلِّ مَنْ سَطَا۔۲؎ آئل جبرائیل ہے، فرشتہ بشارت دینے والا۔فرمایا۔آئل اصل میں ایالت سے ہےیعنی اصلاح کرنے والا جو مظلوم کو ظالم سے بچاتا ہے۔یہاں جبرئیل نہیں کہا، آئل کہا۔اس لفظ کی حکمت یہی ہے کہ وہ دلالت کرے کہ مظلوم کو ظالموں سے بچاوے۔اس لئے فرشتہ کا نام ہی آئل رکھ دیا۔پھر اُس نے اُنگلی ہلائی کہ چاروں طرف کے دشمن۔اور اشارہ کیا کہ یَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنَ الْعِدَا وغیرہ۔یہ بھی اُس پہلے الہام سے ملتا ہے اِنَّہٗ کَرِیْمٌ تَـمَشّٰی اَمَامَکَ وَعَادٰی مَنْ عَادٰی۔وہ کریم ہے تیرے آگے آگے چلتا ہے جس نے تیری عداوت کی اُس کی عداوت کی۔چونکہ آئل کا لفظ لُغت میں مل نہ سکتا ہوگا یا زبان میں کم مستعمل ہوتا ہوگا اس لئے الہام نے خود اس کی تفصیل کردی ہے۔‘‘ (البدر۳؎ جلد ۱نمبر۱۲ مورخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۰) ۹؍ جنوری ۱۹۰۳ء ’’ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ اَتٰی۔رَکَلَ؎۴ وَ رَکَا۔فَطُوْبٰی لِمَنْ وَجَدَ وَ رَاٰی۔۱ (ترجمہ از مرتّب) بحالیٔ صحت تک۔۲ (ترجمہ) آیا میرے پاس آئل، اور اُس نے اختیار کیا (یعنی چُن لیا تجھ کو) اور گھمایا اُس نے اپنی اُنگلی کو ، اور اشارہ کیا کہ خدا تجھے دشمنوں سے بچاوے گا اور ٹوٹ کر پڑے گا اُس شخص پر جو تجھ پر اُچھلا۔(البدر مورخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۰) ۳ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۵، ۶ میں یہ فقرہ ’’پھر اُس نے اُنگلی ہلائی کہ چاروں طرف کے دشمن۔اور اشارہ کیا کہ یَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنَ الْعِدَا وغیرہ۔‘‘درج نہیں۔۴ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) الحکم میں وَ رَکَلَ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۴ پر بھی ’’واؤ‘‘ کے ساتھ لکھا ہے۔