تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 1089

تذکرہ — Page 19

۱۸۷۶ء (قریباً) ’’حضرت والد صاحب کے زمانہ میں ہی جبکہ ان کا زمانہ وفات بہت نزدیک تھا ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمر پاک صورت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا اور اُس نے یہ ذکر کر کے کہ کسی قدر بقیہ حاشیہ۔اور میں نے دیکھا کہ فاطمۃ الزھراءؓ نے میرا سر اپنی ران پر رکھا اور انہوں نے مجھے شفقت سے دیکھا جو میں ان کے چہرہ سے پہچان رہا تھا۔پس میں اس سے یہ سمجھا کہ مجھے حسینؓ کے ساتھ ایک نسبت ہے اور میں ان کی بعض صفات میں ان سے ملتا ہوں اور اللہ جانتا ہے اور وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔میں نے دیکھا کہ علی رضی اللہ عنہ مجھے ایک کتاب دکھاتے اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن کی تفسیر ہے جس کو میں نے تالیف کیا ہے اور مجھے خدا نے حکم دیا ہے کہ میں آپ کو دوں۔تب میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے لے لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے اور سن رہے تھے مگر آپؐ بولتے نہیں تھے گویا آپؐ میرے بعض غموں کی وجہ سے غمگین تھے اور میں نے جب آپؐ کو دیکھا تو آپؐ کا وہی چہرہ تھا جو میں نے پہلے دیکھا تھا آپؐ کے نور سے گھر روشن ہوگیا۔پس پاک ہے وہ خدا جو نور اور نورانی وجودوں کا خالق ہے۔(ب) ’’فَاَعْطَانِیْ تَفْسِیْرَ کِتَابِ اللّٰہِ الْعَلَّامِ وَقَالَ ھٰذَا تَفْسِیْرِیْ۔وَالْاٰنَ اُوْلِیْتَ فَھُنِّیْتَ بِـمَا اُوْتِیْتَ فَبَسَطْتُّ یَدِیْ وَاَخَذْ۔تُ التَّفْسِیْرَوَشَکَرْتُ اللّٰہَ الْمُعْطِیَ الْقَدِیْرَ۔وَوَجَدْتُّہٗ ذَا خَلْقٍ قَوِیْمٍ وَّخُلْقٍ صَمِیْمٍ وَّمُتَوَاضِعًا مُّنْکَسِرًا وَّمُتَھَلِّلًا مُّنَوَّرًا۔وَاَقُوْلُ حَلْفًا اَ نَّہٗ لَاقَانِیْ حِبًّا وَّ اَلْفًا۔وَاُلْقِیَ فِیْ رُوْعِیْ اَنَّہٗ یَعْرِفُنِیْ وَعَقِیْدَتِیْ وَیَعْلَمُ مَا اُخَالِفُ الشِّیْعَۃَ فِیْ مَسْلَــکِیْ وَمَشْـرَبِیْ وَلٰکِنْ مَا شَـمَخَ بِاَنْفِہٖ عَنْفًا وَّ مَا نَـاٰ بِـجَانِبِہٖ اَنْفًا بَلْ وَافَانِیْ وَصَافَانِیْ کَالْمُحِبِّیْنَ الْمُخْلِصِیْنَ۔وَاَظْھَرَ الْمَحَبَّۃَ کَالْمُصَافِیْنَ الصَّادِقِیْنَ۔وَکَانَ مَعَہُ الْـحُسَیْنُ بَلِ الْـحَسَنَیْنِ وَسَیِّدُ الرُّسُلِ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔وَکَانَتْ مَعَھُمْ فَتَاۃٌ جَـمِیْلَۃٌ صَالِـحَۃٌ جَلِیْلَۃٌ مُّبَارَکَۃٌ مُّطَھَّرَۃٌ مُّعَظَّمَۃٌ مُّوَقَّرَۃٌ بَاھِرَۃُ السُّفُوْرِ ظَاھِرَۃُ النُّوْرِ۔وَ وَجَدْ تُّـھَا مُـمْتَلَأَ ۃً مِّنَ الْـحُزْنِ وَلٰکِنْ کَانَتْ کَاتِـمَۃً۔وَ اُلْقِیَ فِیْ رُوْعِیْ اَنَّـھَا الزَّھْرَاءُ فَاطِـمَۃُ فَـجَاءَتْنِیْ وَ اَنَـا مُضْطَجِـــعٌ فَقَعَدَ تْ وَوَضَعَتْ رَاْسِیْ عَلٰی فَـخِذِھَا وَتَلَطَّفَتْ۔وَرَاَیْتُ اَنَّـھَا لِبَعْضِ اَحْزَانِیْ تَـحْزُنُ وَتَضْجَرُ وَتَتَحَنَّنُ وَتَقْلَقُ کَاُمَّھَاتٍ عِنْدَ مَصَائِبِ الْبَنِیْنَ۔فَعُلِّمْتُ اَنِّیْ نَزَلْتُ مِنْھَا بِـمَنْزِلَۃِ الْاِبْنِ فِیْ عُلَقِ الدِّیْنِ۔وَخَطَرَ فِیْ قَلْبِیْ اَنَّ حُزْنَـھَا اِشَارَۃٌ اِلٰی مَا سَاَرٰی ظُلْمًا مِّنَ الْقَوْمِ وَاَھْلِ الْوَطَنَ وَالْمُعَادِیْنَ۔ثُمَّ جَآءَنِی الْـحَسَنَانِ وَکَا نَا یُبْدِاٰنِ الْمَحَبَّۃَ کَا لْاِخْوَانِ۔وَ وَافَیَانِیْ کَالْمُوَاسِیْنَ۔وَکَانَ ھٰذَاکَشْفًا مِّنْ کُشُوْفِ الْیَقْظَۃِ وَقَدْ مَضَتْ عَلَیْہِ بُرْھَۃٌ مِّنْ سِنِیْنَ۔‘‘ (سِـرّالـخلافۃ۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۳۵۸،۳۵۹) (ترجمہ از مرتّب) پس (حضرت علیؓ نے) مجھے کتاب اللہ کی تفسیر دی اور کہا کہ یہ میری تفسیر ہے اور اب آپ اس کے مستحق ہیں۔آپ کو اس کتاب کا ملنا مبارک ہو۔پھر میں نے ہاتھ بڑھا کر تفسیر لے لی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔میں نے آپ کو