تذکرہ — Page 18
عین بیداری میں ایک تھوڑی سی غَیبتِ حِس سے جو خفیف سے نشاء سے مشابہ تھی ایک عجیب عالم ظاہر ہوا کہ پہلے یک دفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی جیسے بسُرعت چلنے کی حالت میں پانو کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آگئے یعنی جناب پیغمبرِخدا صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت علی و حَسنَین و فاطمہ زَہرا رضی اللہ عنـہم اجمعین اور ایک نے اُن میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہانے نہایت محبت اور شفقت سے مادرِ مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔پھر بعد اس کے ایک کتاب مجھ کو دی گئی جس کی نسبت یہ بتلایا گیا کہ یہ تفسیر قرآن ہے۔جس کو علی نے تالیف کیا ہے اور اب علی؎۱ وہ تفسیر تجھ کودیتا ہے۔فَالْـحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکَ۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹۸،۵۹۹ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳ نیز دیکھئے تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۱۱۸) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کشف کی بعض تفصیلات جو دوسری جگہ بیان فرمائی ہیں وہ درج ذیل ہیں۔(الف) وَ کُنْتُ ذَاتَ یَوْمٍ فَرَغْتُ مِنْ فَرِیْضَۃِ الْمَسَآءِ وَ سُنَنِـھَا وَ اَنَا مُسْتَیْقِظٌ مَا اَخَذَنِیْ نَوْمٌ وَ لَا سِنَۃٌ وَمَا کُنْتُ مِنَ النَّائِـمِیْنَ۔فَبَیْنَـمَا اَنَا کَذَالِکَ اِذَا سَمِعْتُ صَوْتَ صَکِّ الْبَابِ فَنَظَرْتُ فَاِذَا الْمُدَکُّوْنَ یَـاْتُوْنَنِیْ مُسَارِعِیْنَ۔فَاِذَا دَنَوْا مِنِّیْ عَرَفْتُ أَنَّـہُمْ خَـمْسَۃٌ مُبَارَکَۃٌ أَعْنِیْ عَلِیًّا مَعَ ابْنَیْہِ وَ زَوْجَتِہِ الزَّھْرَاءُ وَسَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ۔وَ رَأَیْتُ أَنَّ الزَّھْرَاءَ وَضَعَتْ رَأْسِیْ عَلٰی فَـخِذِھَا وَ نَظَرَتْ بِنَظَرَاتِ تَـحَنُّنٍ کُنْتُ اَعْرِفُ فِیْ وَجْھِھَا فَفَھِمْتُ فِیْ نَفْسِیْ أَنَّ لِیْ نِسْبَۃٌ بِالْـحُسَیْنِ وَأُشَابِـھُہٗ فِیْ بَعْضِ صِفَاتِہٖ وَ سَوَانِـحِہٖ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَ ھُوَ اَعْلَمُ الْعَالَمِیْنَ۔وَ رَاَیْتُ اَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُرِیْــنِیْ کِتَابًـا وَّ یَقُوْلُ ھٰذَا تَفْسِیْرُ الْقُرْاٰنِ اَنَا اَلَّفْتُہٗ وَاَمَرَنِیْ رَبِّیْ اَنْ اُعْطِیَکَ۔فَبَسَطْتُّ اِلَیْہِ یَدِیْ وَاَخَذْتُہٗ۔وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَـرَیٰ وَ یَسْمَعُ وَ لَا یَتَکَلَّمُ کَاَ نَّہٗ حَزِیْنٌ لِّاَجْلِ بَعْضِ اَحْزَانِیْ۔وَرَاَیْتُہٗ فَاِذَا الْوَجْہُ ھُوَ الْوَجْہُ الَّذِیْ رَاَیْتُ مِنْ قَبْلُ اَنَـارَتِ الْبَیْتُ مِنْ نُّورِہٖ۔فَسُبْحَانَ اللّٰہِ خَالِقِ النُّوْرِ وَالنُّوْرَانِیِّیْنَ۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۴۹،۵۵۰) (ترجمہ ازمرتّب) ایک روز میں نماز مغرب کے فرائض و سنن سے فارغ ہوا اور ابھی میں بیدار ہی تھا نہ تو مجھے نیند آئی تھی اور نہ میں اونگھ رہا تھا اور نہ ہی میں سویا ہوا تھا۔میں اسی حالت میں تھا کہ میں نے دروازے کے بند کرنے کی آوازسنی۔میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو چند آدمیوں کو تیز قدموں سے اپنی طرف آتے ہوئے پایا۔پس جب وہ میرے قریب ہوئے تو میں نے انہیں پہچان لیا کہ وہ پنج تن پاک تھے یعنی علیؓ اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ اور اپنی بیوی فاطمۃ الزھراءؓکے ساتھ اورسید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔اے اللہ آپؐ اور آپؐ کی آل پر قیامت کے دن تک درود و سلام بھیج۔