تذکرہ — Page 20
روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سُنّتِ خاندانِ نبوت ہے۔اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں اس سنت ِ اہلِ بیتِ رسالت کو بجا لاؤں۔سو میں نے کچھ مدت تک التزامِ صوم کو مناسب سمجھا… اور اس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربہ میں آئے وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اُس زمانہ میں میرے پر کھلے۔چنانچہ بعض گذشتہ نبیوں کی ملاقاتیں ہوئیں اور جو اعلیٰ طبقہ کے اولیا اس اُمت میں گذر چکے ہیں اُن سے ملاقات ہوئی۔ایک دفعہ عین بیداری کی حالت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معہ حسنین و علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دیکھا اور یہ خواب نہ تھی بلکہ ایک بیداری کی قسم تھی غرض اسی طرح پر کئی مقدس لوگوں کی ملاقاتیں ہوئیں جن کا ذکر کرنا موجب تطویل ہے اور علاوہ اس کے انوار روحانی تمثیلی طور پر برنگ ستون سبز و سرخ ایسے دلکش ودلستان طور پر نظر آتے تھے۔جن کا بیان کرنا بالکل طاقت ِ تحریر سے باہر ہے۔وہ نورانی ستون جو سیدھے آسمان کی طرف گئے ہوئے تھے جن میں سے بعض چمکدار سفید اور بعض سبز اور بعض سرخ تھے ان کو دل سے ایسا تعلق تھا کہ ان کو دیکھ کر دل کو نہایت سرور پہنچتا تھا اور دنیا میں کوئی بھی ایسی لذّت نہیں ہوگی جیسا کہ ان کو دیکھ کر دل اور روح کو لذّت آتی تھی۔میرے خیال میں ہے کہ وہ ستون خدا اور بندہ کی محبت کی ترکیب سے ایک تمثیلی صورت میں ظاہر کئے گئے تھے یعنی وہ ایک نور تھا جو دل سے نکلا اور دوسرا وہ نور تھا جو اوپر سے نازل ہوا اور دونوں کے ملنے سے ایک ستون کی بقیہ حاشیہ۔خوب تنومند اور اعلیٰ اخلاق کا مالک پایا۔متواضع منکسرالمزاج، چمکتے ہوئے روشن چہرہ والا۔میں حلفاً کہتا ہوں کہ آپ مجھ سے بڑی محبت اور شفقت سے ملے اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ آپ مجھے پہچانتے ہیںاور آپ کو میرے عقیدہ کا بھی علم ہے اور آپ یہ بھی جانتے ہیںکہ میرا مسلک اور مشرب شیعوں کے مخالف ہے لیکن آپ اسے بُرا نہیں مناتے بلکہ آپ مجھ سے مخلص محبوں کی طرح ملے اور بڑی محبت کا اظہار کیا۔آپ کے ساتھ حسنین اور سیّد الرسل خاتم النبیینؐ بھی تھے اور ان کے ساتھ ایک خوبصورت نوجوان عورت بھی جو صالحہ، عالی مرتبہ، نیک سیرت اور باوقار تھی جس کے چہرہ سے نور ٹپک رہا تھا اور میں نے اس کو غم سے بھرا ہوا پایا جسے وہ چھپا رہی تھی۔میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ بی بی فاطمۃ الزہراء ہیں آپ میرے پاس آئیں۔میں لیٹا ہوا تھا آپ بیٹھ گئیں اور میرا سر اپنی ران پر رکھا اور شفقت فرمانے لگیں۔میں نے دیکھا کہ میرے بعض غموں کی و جہ سے آپ غمگین اور پریشان تھیں جیسے مائیں اپنے بیٹوں کے مصائب کے وقت پریشان ہوتی ہیں۔پھر مجھے بتایا گیا کہ میری حیثیت دینی تعلق کے لحاظ سے بمنزلہ بیٹے کے ہے اور میرے دل میں یہ خیال آیا کہ آپ کے غم میں اس ظلم کی طرف اشارہ ہے جو مجھے قوم اور اہلِ وطن اور دشمنوں کی طرف سے پہنچنے والا ہے۔پھر حسنین میرے پاس آئے اور دونوں مجھ سے بھائیوں کی طرح محبت کا اظہار کرتے تھے اور شفیق ہمدردوں کی طرح مجھے ملے اور یہ کشف بیداری والے کشوف میں سے تھا جس پر کئی سال گذر چکے ہیں۔